خطبات محمود (جلد 22) — Page 497
* 1941 497 خطبات محمود کہ اگر احمدیت کی سچائی پر اس کا ایمان ہے اور وہ نسبتی طور پر عیسائیوں کی نسبت مجھے عقائد صحیحہ پر زیادہ قائم سمجھتا ہو۔چاہے یوں وہ مجھے کتنا ہی بُرا اور گندا خیال کرتا ہو تو بہر حال عیسائیوں کی نسبت اسے مجھے اتقی قرار دینا پڑے گا اور قرآنی فیصلہ کے مطابق اکرم بھی۔یہ الگ بات ہے کہ اس کے نزدیک مجھ میں بعض غلطیاں ہیں۔پس میں اس بات کا فیصلہ اسی پر چھوڑتا ہوں۔اگر اس کے نزدیک قرآن کریم کی بات صحیح ہے تو جس میں وہ بات زیادہ پائی جائے گی جسے قرآن کریم نے بیان کیا ہے مسلمانوں کے نزدیک وہی زیادہ شریف ہو گا۔اگر عیسائیوں میں پائی جاتی ہو گی تو وہ زیادہ شریف ہوں گے اور اگر مجھ میں پائی جاتی ہو گی تو میں زیادہ شریف ہوں گا۔ہاں عیسائیوں کے عقیدہ کی رُو سے ایک عیسائی زیادہ شریف ہو گا اور اس کے مقابل پر ایک مسلمان خواہ کیسا ہی اسلام کا پابند ہو ہو کم شریف ہو گا۔پس اس کی ان دو باتوں کا جواب میں نے دے دیا ہے۔باقی باتوں کا میں جواب نہیں دے سکتا۔اگر وہ واقعات لکھتا اور بتاتا کہ فلاں فلاں پر ناظر امور عامہ کی طرف سے یہ ظلم ہوا ہے تو میں ان کے متعلق تحقیق کرتا مگر چونکہ اس نے کوئی واقعات بیان نہیں کئے اس لئے اس کے متعلق میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔باقی جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس کا خط اضداد سے بھرا ہوا ہے۔ایک طرف وہ مجھے “ بخدمت اشرف ” لکھتا ہے اور دوسری طرف مجھے ذلیل قرار دیتا ہے۔اسی طرح ایک طرف وہ اپنے آپ کو “ مخلص احمدی ” اور بڑا بہادر قرار دیتا ہے اور دوسری طرف وہ اپنا نام تک ڈر کے مارے ظاہر نہیں کر سکتا۔میں نے بتایا ہے کہ اس خط کے متعلق ہمیں بعض شبہات ہیں اور ایک شخص کے متعلق ہمارا خیال ہے کہ اس نے یہ خط لکھا ہے۔مگر ابھی یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا۔اس خطبہ کے بعد یقینی طور پر ثابت ہو گیا ہے کہ وہی شخص ہے جس کے بارہ میں مجھے شبہ تھا اور اس نے اقرار کر لیا ہے۔