خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 449

* 1941 449 خطبات محمود یہاں باتیں کیں اور تم میں سے ہر شخص جانتا ہے کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں وہ درست ہے مگر اتنے گواہوں کے باوجود تم کہہ رہے ہو کہ تم اندر نہیں بیٹھے۔جس کا جھوٹ تم لوگ بول رہے ہو اس قسم کی گواہیوں پر عدالتوں کی طرف سے لوگوں کو سزاؤں کا ملنا یقینا نہایت ہی افسوسناک اور ظالمانہ فعل ہے اس پر وہ کچھ کھسیانے سے ہو گئے مگر اقرار انہوں نے پھر بھی نہ کیا کہ وہ کمرہ کے اند ربیٹھے تھے۔جب میں نے دیکھا کہ وہ اس طرح کھلے طور پر جھوٹ بول رہے ہیں تو نے خیال کیا کہ نہ معلوم ہمارے متعلق وہ اور کیا باتیں بنا لیں۔شاید وہ یہی کہہ دیں کہ ہم پر انہوں نے حملہ کر دیا تھا اور ہمیں مارنے پیٹنے لگ گئے تھے۔اس لئے میں نے مرزا مظفر احمد سے کہا کہ مظفر اس ملک میں احمدیوں کے قول پر کوئی اعتبار نہیں کرتا۔تم تعلیم یافتہ ہو ، عہدہ دار ہو لیکن پھر بھی اگر کوئی واقعہ ہوا تو تمہاری کسی بات پر اعتبار نہیں کیا جائے گا۔بلکہ اعتبار انہی لوگوں کی بات پر کیا جائے گا۔اس لئے بہتر ہے کہ ان واقعات کی شہادت کے لئے کسی اور کو بھی بلا لیا جائے۔ہمارے ہمسایہ میں ایک غیر احمدی ڈپٹی کمشنر صاحب چھٹی پر آئے ہوئے تھے۔میں نے مرزا مظفر احمد سے کہا کہ فوراً ان کی طرف ایک آدمی دوڑا دیا جائے اور کہا جائے ایک ضروری کام ہے۔آپ مہربانی کر کے تھوڑی دیر کے لئے تشریف لے آئیں۔میرا منشاء یہ تھا کہ وہ آئیں تو اس واقعہ کے گواہ بن جائیں گے۔چنانچہ مرزا مظفر احمد نے ان کی طرف ایک آدمی دوڑا دیا کہ ضروری کام ہے آپ جلدی تشریف لائیں۔اس کے بعد میں پھر اوپر چلا گیا اتنے میں نیچے سے مجھے آوازیں آئیں اور میں نے آواز سے پہچان لیا کہ ڈپٹی کمشنر صاحب آ گئے ہیں۔وہ ان سپاہیوں سے باتیں کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تم نے صریحاً خلاف قانون حرکت کی ہے۔یہ باتیں سن کر میں بھی نیچے اتر آیا اور میں نے ان کے سامنے تمام پہلی باتوں کو دہرانا شروع کر دیا۔میں نے کہا کہ اس طرح خلیل احمد کے نام ایک پیکٹ آیا تھا