خطبات محمود (جلد 22) — Page 410
خطبات محمود 410 * 1941 بعد میں انہیں سمجھایا کہ یہ کتنے افسوس کی بات ہے اسے تو کچھ بھی پتہ نہیں کہ احمدیت کیا ہوتی ہے۔اس کی بیعت تو سلسلہ کے لئے ایک وبال بن جائے گی۔مگر وہ جوش میں یہی کہتے چلے جائیں کہ ” نہیں جی بیعت چنگی ہی ہوندی ہے۔“ یعنی جناب بیعت بہر حال اچھی ہوتی ہے۔یہ وہی بچپن والی خاصیت ہے جو عدم تربیت کی وجہ سے بڑے ہو کر بھی ظاہر ہو جاتی ہے اور انسان کے دل میں جب کوئی خواہش پیدا ہو تو قطع نظر اس کے کہ اس خواہش کے پورا ہونے کا کوئی موقع اور محل ہو یا نہ ہو وہ چاہتا ہے کہ پیدا جس طرح بھی ہو اس کی خواہش پوری ہو جائے۔حالانکہ ایسی خواہش کوئی نیک نہیں کیا کرتی۔مثلاً اگر کسی کا پیٹ بھرا ہوا ہو او ر پھر بھی وہ اور کھانے کی خواہش کرے تو وہ کھانا اس کے جسم کو لگے گا نہیں بلکہ بسا اوقات اسے قے ہو جائے گی۔اسی طرح ایک شخص نے کپڑے پہنے ہوئے ہوں اور اس کے دل میں خواہش پیدا ہو کہ وہ اور کپڑے پہن لے تو اگر گرمی کا موسم ہو گا تو وہ گرمی مرے گا اور اگر سردی کا موسم ہو گا تو بوجھ سے مرے گا۔غرض ہر خواہش کا پورا ہونا ضروری نہیں ہوتا اور نہ ہر خواہش اچھی ہوتی ہے۔انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہر خواہش کے پیدا ہونے پر سوچے اور غور کرے کہ وہ اچھی خواہش ہے یا بری۔اگر بری ہے تو اس کو ترک کر دے اور اگر اچھی ہے تو اس وقت کا انتظار کرے جب اس کی خواہش پوری ہو سکتی ہو اور جب اس کی خواہش پوری ہونے لگے تو وہ یہ سوچے کہ جو چیز اسے حاصل ہوئی ہے کیا یہ وہی ہے جس کی اس کے دل میں خواہش تھی یا اس کے علاوہ کوئی اور چیز ہے کیونکہ جو خواہش مادیات کے ساتھ تعلق نہ رکھتی ہو اس کے متعلق یہ پہچاننا بہت مشکل ہے کہ وہ خواہش صحیح رنگ میں پوری ہوئی ہے یا نہیں۔مثلاً ایک آدمی کے دل میں اگر کپڑے کی خواہش پیدا ہو تو وہ آسانی کے ساتھ دکان پر جا ا کر لٹھا یا خرید سکتا ہے مگر جو چیزیں قلوب کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں وہ آسانی کے ساتھ معمل