خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 402 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 402

* 1941 402 خطبات محمود ہی اسے اس جوہر میں شگاف دکھائی دینے لگ جاتا ہے۔موتی اسے گدلا نظر آنے لگ جاتا ہے۔اطمینانِ قلب اس کے ہاتھوں سے کھویا جاتا ہے۔نہ اس کی نمازوں میں جوش رہتا ہے نہ نہ اسے عبادت میں رغبت رہتی ہے نہ اسے جماعت کے افراد میں کوئی خوبیاں دکھائی دیتی ہیں۔اگر اسے دکھائی دیتا ہے تو بس یہ کہ فلاں میں یہ نقص ہے، فلاں میں وہ عیب ہے، فلاں ایسا بُرا ہے اور فلاں ایسا بُرا ہے۔گویا جہاں سے چلا تھا وہیں آ جاتا ہے۔پھر اس کی طبیعت چاہتی ہے کہ اب مجھے کوئی اور کھلونا مل جائے۔یہ نہیں کہ ایسے لوگ مرتد ہو جاتے ہیں۔کئی مرتد بھی ہو جاتے ہیں مگر جو رتد تو نہیں ہوتے ان کے دل کا اخلاص جاتا رہتا ہے۔انہوں نے اپنے ذہن میں چیز کا نقشہ بنایا ہوا ہوتا ہے۔پھر ان کے اس جنون کا دو طرح اظہار ہوتا ہے۔ایک تو اس طرح کہ مجنونانہ طور پر انہوں نے کوئی غلط معیار قائم کیا ہوا ہوتا ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ اگر ان کے معیار پر کوئی چیز اتری تو اسے وہ مان لیں گے اور اگر ان کے معیار کے مطابق نہ ہوئی تو اسے رد کر دیں گے۔حالانکہ وہ معیار ان کے خود تراشیدہ ہوتے ہیں۔مثلاً دنیا میں جب خدا تعالیٰ کسی دینی سلسلہ کو قائم وہ کرے گا تو لازماً اسے اپنی سنت کے مطابق چلائے گا۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اسے لوگوں کی خواہشات کے مطابق چلائے۔جو طریق خدا تعالیٰ کا نوح کے وقت رہا، طریق خدا تعالیٰ کا ابراہیم کے وقت رہا، جو طریق خدا تعالیٰ کا موسیٰ" کے وقت رہا، جو طریق خدا تعالیٰ کا عیسی کے وقت رہا اور جو طریق خدا تعالیٰ کا رسول کریم صلی علی دلم کے وقت رہا وہی طریق اس کا اب بھی ہو گا اور جس منہاج پر پہلے سلسلوں کو خدا تعالیٰ نے قائم کیا اسی منہاج اور طریق پر اب الہی سلسلے قائم ہوں گے اور الہی جماعتوں پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں اچھے بھی ہوتے ہیں اور برے بھی ہوتے ہیں۔نیک بھی ہوتے ہیں اور بد بھی ہوتے ہیں۔پھر ان کمزور لوگوں میں سے کچھ تو پھسل جاتے ہیں۔کچھ پھسلتے پھسلتے سنبھل جاتے ہیں۔کچھ مصائب کے تھپیڑے کھا کر اصل راستہ پر چل پڑتے ہیں اور کچھ مرتد ہو جاتے ہیں۔یہی طریق خدا تعالیٰ کا