خطبات محمود (جلد 22) — Page 349
* 1941 350 خطبات محمود بند کر لیا۔اگر وہ دانائی اور عقل سے کام لیتا اور نیت کو بدل لیتا اور سمجھتا کہ میری طرف سے خدا تعالیٰ میرے دشمنوں سے بدلہ لے رہا ہے اور اپنی لڑائی اسلام کے لئے لڑتا ہے تو پھر بھی اس کی تلوار اس کے دشمنوں کو زخم لگاتی اور پھر بھی وہ اس کے ہاتھ سے ہلاک ہوتے پھر بھی وہ اپنے دل کا جوش نکال سکتا مگر اس کے ساتھ اس کی لڑائی عبادت میں داخل ہوتی۔وہ جہاد کے ثواب کا مستحق ٹھہرتا۔دوزخ کی بجائے جنت میں جاتا اور فرشتوں کی لعنت کی بجائے رحمت کا مستحق ہوتا۔رسول کریم صلی ال یم بھی بجائے یہ فرمانے کے کہ جس نے دوزخی زمین پر چلتا پھرتا دیکھنا ہو اسے دیکھ لے۔فرماتے کہ جس نے جنتی زمین پر چلتا پھرتا دیکھنا ہو دیکھ لے۔دیکھو کتنا چھوٹا سا فرق ہے۔عقل کے ذرا سے پھیر سے کچھ کا کچھ ہو سکتا تھا مگر اشتعال کی وجہ سے وہ کہاں سے کہاں چلا گیا۔تو ایک ذرا سے تغیر کے ساتھ انسان کچھ کا کچھ بدل جاتا ہے۔وہی کام اس کے لئے نیکی بن جاتا ہے اور وہی بدی ہو جاتا ہے۔وہی کام خدا تعالیٰ تک پہنچا دیتا ہے۔اور وہی دوزخ میں گرا دیتا ہے۔دیکھو ایک طرف تو یہ شخص ہے جسے خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی ال ولیم کی کمان میں لڑنے کی توفیق دی۔حضرت ابو بکر حضرت عمر کے دوش بدوش لڑائی کرنے کا موقع دیا اور جہاد میں شریک ہونے کی توفیق دی مگر اس نے اشتعال کی وجہ سے اتنی عظیم الشان نعمت کو ردی کر کے پھینک دیا۔اس کے بالمقابل ایک ایسا ہی موقع حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیش آیا۔جنگ احزاب ( یا جنگ خیبر کے موقع پر ان کی ایک کافر کے ساتھ لڑائی ہوئی اور حضرت علیؓ نے اسے زمین پر گرا لیا۔اسے گرانے سے پہلے آپ کو بہت دیر تک اس سے کشتی کرنی پڑی لیکن جب گرانے کے بعد اسے قتل کرنے کے لئے آپ اس کے سینہ پر بیٹھ گئے تو اس نے آپ کے منہ پر تھوک دیا۔جب اس نے تھوکا تو حضرت علی فوراً اسے چھوڑ کر الگ ہو گئے۔اس پر وہ بہت حیران ہوا اور حیرت سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے۔تم میری تلوار سے تو نہ ڈرے حالانکہ میں ایک مشہور زن ہوں۔پہروں لڑائی ہوتی رہی اور تم نے بڑی مصیبت اور مشکل سے مجھے