خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 333

* 1941 334 خطبات محمود سمجھ بھی لیا جائے کہ عارضی طور پر جماعت پر ایک ابتلاء آ گیا تھا تو ستائیس سال گزرنے پر تو ان کی تعداد لاکھوں تک پہنچ جانی چاہئے تھی۔مگر ہوا یہ کہ وہ تو چار ہزار ہی رہے اور جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر ایمان لا کر حقیقی مسلمان بنے تھے ان میں سے ہزاروں ہزار لوگ انہی عقائد پر فوت ہو گئے جن پر ہماری جماعت ہے۔گویا ان کے خاتمہ نے ان کی تمام زندگی کے اعمال پر مہر لگا دی اور بتا دیا کہ صحیح راستہ وہی ہے جس پر قائم رہتے ہوئے وہ ہزاروں لوگ فوت ہوئے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر حقیقی اسلام قبول کیا تھا۔میرے نزدیک گزشتہ ستائیس سال کے عرصہ میں صرف دس ہزار آدمی ان لوگوں میں سے فوت ہو چکے ہوں گے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر ایمان لائے تھے بلکہ ممکن ہے فوت ہونے والوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو اور یہ دس ہزار وہ ہیں جو موجودہ پیغامیوں کی مجموعی تعداد سے بہت زیادہ ہیں۔گویا ان لوگوں کی موجودہ تعداد سے بہت زیادہ لوگ انہی عقائد پر فوت ہو چکے ہیں جو ہماری جماعت کے ہیں۔مگر وہ ستائیس سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک چار ہزار ہی ہیں حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ :۔66 خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار خبر دی ہے کہ وہ مجھے بہت عظمت دے گا اور میری محبت دلوں میں بٹھائے گا اور میرے سلسلہ کو تمام زمین میں پھیلائے گا اور سب فرقوں پر میرے فرقہ کو غالب کرے گا۔” یہ بیان پھر اس حوالہ میں ایک اور بات حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ “میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کے رو سے سب کا مُنہ بند کر دیں گے۔” یعنی علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے معجزات اور نشانات کے۔جماعت احمدیہ میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جن کا براہ راست خدا تعالیٰ کے ساتھ