خطبات محمود (جلد 22) — Page 332
* 1941 333 خطبات محمود وو تسلیم کی جا سکتی تھی۔مگر حالت یہ ہے کہ وہ چار ہزار پیغامی جو اس ابتلاء کے وقت ثابت قدم رہے۔ان “صادقوں”، “راستبازوں” اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ماننے والوں کو ہمیشہ ذلت کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔اور نہ تو وہ غیر احمدیوں میں سے اتنے لوگ کھینچ سکتے ہیں جتنے ان کے قول کے مطابق مرتد ہوئے اور نہ اپنوں میں ، وہ کسی قابل ذکر تعداد کو اپنے ساتھ شامل کر سکے ہیں۔حالانکہ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں صاف طور پر فرماتا ہے کہ اگر تم میں سے ایک بھی مرتد ہو جائے گا تو میں اس کی جگہ دسیوں لاؤں گا اور میں ایک قوم اور جماعت کو اس کی بجائے دین میں سے وہ داخل کروں گا۔مگر یہ جو “خالص مسلمان” تھے ان کے ساتھ خدا تعالیٰ نے سلوک کیا کہ اگر یہ ہم میں سے ایک آدمی کو لے جاتے ہیں تو خدا تعالیٰ ان کے دو یا چار لوگوں کو توڑ کر ہمارے ساتھ شامل کر دیتا ہے اور غیر احمدیوں میں سے تو ایک مرتد ہونے والے کے مقابلہ میں پچاس ساٹھ بلکہ سو سو آدمی شامل ہو جاتے ہیں۔کس قدر خوشی ان لوگوں کو مصری جلد کے مرتد ہونے پر ہوئی تھی۔مگر وہ کتنے آدمی تھے ؟ صرف پانچ یا چھ تھے اور اگر ان کے بیوی بچوں کو ملا لیا جائے تو ہیں پچپیں بن جاتے ہیں۔اس کے مقابلہ میں جتنے لوگ ہماری جماعت میں ایک سال کے اندر اندر شامل ہوئے کیا ان کے مقابلہ میں ان ہیں پچپیں آدمیوں کی کوئی بھی نسبت ہے؟ اسی سال اس وقت تک تین ہزار آدمی بیعت کر چکے ہیں جن میں سے ہزار کے قریب آدمیوں کی لسٹ اخبار میں شائع ہو چکی ہے اور ابھی چھ مہینے باقی ہیں جن میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اور بہت سے لوگ احمدیت میں داخل ہوں گے۔پس کس طرح ہماری جماعت کے ذریعہ خدا تعالیٰ کا وہ کلام شاندار طریق پر پورا ہو رہا ہے کہ اگر تم میں سے ایک شخص مرتد ہوگا تو میں اس کے بدلہ میں ایک قوم لاؤں گا۔مگر کیا یہ بات پیغامی بھی کہہ سکتے ہیں کہ ان میں سے اگر کوئی ایک مرتد ہو تو اس کے بدلے انہیں قوم ملتی ہے۔پس اگر اس وقت کے شیخ عبد الرحمان صاحب مصری مراد ہیں۔