خطبات محمود (جلد 22) — Page 290
* 1941 291 خطبات محمود وہ لوگ جنہوں نے مئی میں چندہ ادا کیا ہے بالکل ممکن ہے کہ ان میں کوئی شخص ایسا ہو جو دس ہزار روپیہ دینے کی توفیق رکھتا ہو مگر اس نے دیئے صرف دس روپے ہوں۔اب ہمارے نزدیک تو وہ مئی میں چندہ ادا کرنے کی وجہ سے سَابِقُونَ میں سمجھا جائے گا مگر خدا تعالیٰ کے نزدیک اس کی کوئی قیمت نہیں ہو گی کیونکہ وہ دس ہزار روپیہ دینے کی طاقت رکھتا تھا مگر اس نے صرف دس روپے دیئے۔دوسری طرف ممکن ہے کہ ایک شخص اکتوبر میں چندہ دے سکتا ہے مگر وہ اپنے نفس پر تکلیف برداشت کر کے جون یا جولائی میں چندہ ادا کر دیتا ہے۔اب ہمارے نزدیک تو وہ مئی میں چندہ ادا کرنے والوں سے باہر سمجھا جائے گا لیکن خدا تعالیٰ کے نزدیک ہے وہ مئی کے مہینہ میں چندہ ادا کرنے والے کئی لوگوں سے بہتر ہو کیونکہ اس نے اپنی طاقت سے زیادہ قربانی کی۔پس کسی کا اس ابتلاء میں مبتلا ہونا کہ جب مئی میں میں وعدہ پورا نہیں کر سکا تو اب جلدی کی کیا ضرورت ہے؟ اس کی بہت بڑی بدقسمتی کی علامت ہے اور اس کے یہ معنی ہیں کہ اس کا پہلا کام جو بندوں کی نظر میں برا لیکن خدا کی نظر میں اچھا تھا اب وہ خدا کی نگاہ میں بھی برا بن گیا ہے۔پس اس قسم کا خیال اگر کسی کے دل میں پیدا ہو تو اسے جلد سے جلد دور کر دینا چاہئے اور جہاں تک ہو سکے تکلیف اٹھا کر وقت سے پہلے اپنا چندہ ادا کرنے کی شش کرنی چاہئے۔میں نے بار بار بتایا ہے کہ یہ روپیہ سلسلہ کے لئے جائداد پیدا کرنے پر لگایا جاتا ہے اور اس روپیہ سے جو زمینیں خریدی گئی ہیں اگر وقت پر ہم اس کی قسط ادا نہ کریں تو دس فی صدی حرجانہ پڑ جاتا ہے۔پس جتنی جتنی کوئی شخص چندہ ادا کرنے میں دیر لگاتا ہے اتنی ہی وہ اپنے ثواب میں کمی کرتا اور سلسلہ پر دس في صدى حرجانہ ڈالنے کا باعث بنتا ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ جو دوست اب تک تحریک جدید کا چندہ ادا نہیں کر سکے وہ اب جلد سے جلد ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔اول تو وہ کوشش کریں کہ جون میں ہی ان کا چندہ ادا ہو جائے اور اگر جون میں ادا نہ کر سکیں تو جولائی میں