خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 22

$1941 22 خطبات محمود کرنا ہے سوئے ہی رہیں اور اللہ تعالیٰ کی عبات کے لئے نہ اٹھیں بلکہ جب تہجد کا وقت آتا ہے تو وہ فوراً بستر سے الگ ہو جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی عبادت کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جو دین کے لئے اپنے آپ کو وقف کرنے والے ہیں۔وقف کرنا اسی کو نہیں کہتے کہ انسان نوکری نہ کرے یا تجارت نہ کرے یا زراعت نہ کرے اور ہمہ تن دینی کاموں میں مشغول رہے بلکہ وہ شخص بھی واقف زندگی ہی ہے جس کے تمام اوقات خدا تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت گزرتے ہیں، او روہ ہر آن اور ہر گھڑی خدا تعالیٰ کے حکم پر لبیک کہنے کے لئے تیار رہتا ہے۔اگر وہ تجارت کرتا ہے تو اس لئے کہ خدا نے کہا ہے تجارت کرو۔اگر وہ زراعت کرتا ہے تو اس لئے کہ خدا نے کہا ہے زراعت کرو۔اگر وہ کسی اور پیشہ کی طرف توجہ کرتا ہے تو اس لئے کہ خدا نے کہا ہے تم پیشوں کی طرف بھی متوجہ ہو۔پس اُس کی تجارت، اُس کی زراعت اور اس کی صنعت لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللهِ 3 کی مصداق ہے جو خدا تعالیٰ کے ذکر سے اسے غافل نہیں کرتی۔نہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آواز آئے اور وہ یہ کہنے لگ جائے کہ میں کیا کروں میری تجارت کو نقصان پہنچے گا، میری زراعت میں حرج واقع ہو گا بلکہ اسے اللہ تعالی کی آواز پر لبیک کہنے کے سوا اور کچھ سوجھتا ہی نہیں۔وہ جانتا ہی نہیں کہ میں تاجر ہوں، وہ جانتا ہی نہیں کہ میں زمیندار ہوں، وہ جانتا ہی نہیں کہ میں صناع ہوں بلکہ وہ سمجھتا ہے کہ میں ساری عمر ہی خدا تعالیٰ کے سپاہیوں میں شامل رہا ہوں اور اس کی تنخواہ کھاتا رہا ہوں۔اب وقت آگیا ہے کہ میں حاضر ہو جاؤں اور اپنی جان اس کی راہ میں قربان کر دوں۔پس باوجود تجارت کرنے کے وہ واقف زندگی ہے، باوجود زراعت کرنے کے وہ واقف زندگی ہے اور باوجود کوئی اور پیشہ اختیار کرنے کے وہ واقف زندگی ہے مگر وہ جو ایسا نہیں کرتا جس کے کانوں میں خدا تعالیٰ کی یا اس کے مقرر کردہ کسی نائب کی آواز آتی ہے اور بجائے اس کے کہ وہ اپنے دل میں بشاشت محسوس کرے اور کہے کہ وہ وقت آگیا ہے جس کا میں منتظر تھا وہ