خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 202

1941 203 خطبات محمود سنتا یعنی ہے آمَنْ يُجِيبُ الْمُضْطَر اذا دعاه 2 یعنی کون ہے جو مضطر اور بے بس کی دعا کو سنتا ہے جس کی حفاظت کے سارے سامان اس سے چھین لئے جاتے ہیں اس کی آواز کو کون ہے؟ فرمایا اللہ۔فرمایا ایک وقت ایسا آتا ہے کہ انبیاء اور ان کی جماعتیں دنیا کے ظلموں سے تنگ آجاتی ہیں اور گھبرا کر پکارتی ہیں کہ متلی نصر الله 3 یعنی ہمارے سامان جاتے رہے ہیں ہمارے ہتھیار چھین لئے گئے ہیں۔اب خدا تعالیٰ کی مدد ہماری نصرت کب کرے گی؟ اب خدا تعالیٰ کہاں ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب یہ آواز انسان کے دل سے نکلتی ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الآإِنَّ نَصْرَ اللهِ قَرِيب 4۔سن لو کہ اللہ تعالیٰ کی مدد قریب آ پہنچی ہے۔یہ صحیح ہے کہ انسانی نسل بعض اوقات ان سامانوں سے محروم ہو جاتی ہے جو بظاہر حفاظت کے لئے ضروری ہیں مگر اس وقت ان کے لئے دعا کا ہتھیار ہوتا ہے۔انبیاء کی جماعتوں کے قیام میں اللہ تعالیٰ کو چونکہ قدرت نمائی مقصود ہوتی ہے اور وہ چونکہ بتانا چاہتا ہے کہ میں نے ہی انہیں کیا ہے میں ہی ان کی حفاظت کروں گا اس لئے وہ ان کو ظاہری سامانوں سے محروم کر دیتا ہے تا وہ ایک ہی ہتھیار کو سامنے رکھیں یعنی خدا تعالیٰ کی امداد کا ہتھیار۔ہماری جماعت بھی اللہ تعالیٰ کے نبی اور مامور کے ذریعہ قائم ہوئی ہے اس لئے سنت اللہ کے مطابق خاص طور پر کمزور ہے۔بے شک ہندوستان میں باقی قومیں بھی ظاہری ہتھیاروں سے محروم ہیں۔ہندو، سکھ ، دوسرے مسلمان کسی کو بھی اجازت نہیں لیکن پھر بھی ان کو ایک اور ہتھیار حاصل ہے۔یعنی جتھہ کا ہتھیار۔مگر ہم اس بھی محروم ہیں۔ان کے بڑے بڑے جتھتے ہیں اور حکومت کو ان کو خوش رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔دوسری حکومتیں بھی ان کو خوش رکھنا چاہتی ہیں مگر ہمارا کوئی جتھہ بھی نہیں اور اس لئے ہمیں خوش رکھنے کی کسی کو بھی ضرورت نہیں۔کہتے ہیں کسی بیل کے سیٹنگ پر کوئی مچھر بیٹھ گیا تھا تھوڑی دیر کے بعد خود ہی لگا کہ میاں بیل! میں تمہارے سینگ پر بیٹھا ہوں اگر تمہیں تکلیف محسوس