خطبات محمود (جلد 22) — Page 189
1941 190 خطبات محمود بیان کیا کرتے ہیں۔ان کا بیان ہے کہ اٹلی نے لیبیا پر قبضہ کرنے کے بعد ہزاروں آدمی بلا وجہ مروا ڈالے اور بعض دفعہ لوگوں پر اپنی حکومت کا رعب جمانے کے لئے گھروں کے دروازوں پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکا دیا جاتا حالانکہ ان کا کوئی قصور ہوتا تھا۔تو ہر قوم جس کی بنیاد مذہب پر نہیں ملکوں کے فتح کرنے کے بعد اسی قسم کے مظالم کیا کرتی ہے۔آخر دنیا میں ہزاروں سال کی تاریخ موجود ہے تم محمد صل الیم اور آپ کے اتباع کو چھوڑ کر یا ایک دو اور بادشاہوں کو منتقلی کر کے بتاؤ تو سہی کہ کسی قوم نے کسی ملک پر قبضہ حاصل کیا ہو اور اس نے وہاں ظلم و ستم کا بازار گرم کر دیا ہو۔تورات پڑھ کر دیکھ لو وہاں بھی یہی احکام ہیں کہ:۔66 جبکہ خداوند تیرا خدا انہیں تیرے حوالے کرے تو تو انہی ماریو اور حرم کیجو نہ تو ان سے کوئی عہد کریو اور نہ ان پر رحم کریو 1 “ تم ان کے مذبحوں کو ڈھا دو، ان کے بتوں کو توڑو، ان کے گھنے باغوں کو کاٹ ڈالو اور ان کی تراشی ہوئی مورتیں آگ میں جلا دو۔” 2 اسی طرح لکھا ہے:۔“ جب خداوند تیرا خدا اسے تیرے قبضے میں کر دیوے تو وہاں کے ہر ایک مرد کو تلوار کی دھار سے قتل کر "3 4"-L “ اور جو کچھ اس شہر میں ہو اس کا سارا لوٹ اپنے لئے غرض جب کوئی قوم فاتح ہو تو وہ یہی کچھ کیا کرتی ہے اور میں تو نہیں سمجھ سکتا کہ کون ایسا احمق ہے جو باوجود اس کے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے وضاحت سے فرما دیا ہے کہ إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوْهَا وَجَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَةً 5 یعنی دستور اور قانون یہی ہے کہ جب کسی ملک میں نئے بادشاہ آتے ہیں تو معزز