خطبات محمود (جلد 22) — Page 121
$1941 121 خطبات محمود کی وجہ سے پیدا وہ کہنے لگا یہ تو بتاؤ کہ اس نے یہ کیوں کیا کہ وہ بعض کو تو زور دے کر کھانا کھلاتا تھا اور مجھے اس نے فاقے دینے شروع کر دیئے۔وہ ڈاکٹر کہنے لگا جن کو وہ زور دے کر کھانا کھلاتا تھا وہ غرباء تھے اور ان کی بیماریاں ان کی فاقہ کشی کی وجہ ہوئی تھیں مگر آپ کی بیماری زیادہ کھانے کا نتیجہ تھی اس لئے اس نے آپ کا علاج تو فاقہ سے کیا اور ان کا علاج کھانا کھلا کر کیا۔اسی طرح رسول کریم صلی علیم کے تمام احکام حکمت پر مبنی ہیں۔نادان اور بے وقوف انسان سمجھتے ہیں کہ اس قسم کی باتوں وجہ سے حدیثوں میں اختلاف ہو گیا اور اس وجہ سے وہ کسی کو ضعیف اور کسی کو حسن قرار دیتے ہیں اور وہ یہ نہیں جانتے کہ دونوں ہی رسول کریم صلی ایم کے قول ہیں۔البتہ وہ دو مختلف حالات کے لئے ہیں ایک ہی حالت کے لئے نہیں۔مسلمانوں نے اسی نادانی کی وجہ سے ایک دوسرے کے سر پھوڑے ہیں کہ الامان۔محض اس بناء پر یہ کہ فلاں سینہ پر ہاتھ باندھتا ہے ناف کے نیچے نہیں باندھتا یا ناف کے نیچے باندھتا ہے اور سینہ پر نہیں باندھتا۔اسی طرح انہوں نے ایک دوسرے کی انگلیاں توڑی ہیں محض اس بات پر کہ بعض لوگ رفع یدین کیوں کرتے ہیں۔اسی طرح مسلمانوں میں آمین بالجہر کہنے پر لڑائیاں ہوئیں اور علماء میں ان مسائل پر بڑی بڑی بحثیں ہوئیں اور ان بحثوں میں انہوں نے چار پانچ سو سال ضائع کر دیئے کہ وہ حدیثیں صحیح ہیں جن میں رفع یدین کا حکم آتا ہے یا وہ حدیثیں صحیح ہیں جن میں رفع یدین کا کوئی ذکر نہیں۔اسی طرح علماء نے اپنی قلمیں گھیا دیں، دواتوں کی سیاہیاں خشک کر دیں اور اپنی عمریں برباد کر دیں محض اس بات پر کہ آمین بالجہر کہنی چاہئے یا آمین بِالسّر۔پھر انہوں نے اپنے اوقات اور اپنے اموال سینکڑوں سال تک اس جھگڑے میں ضائع کر دیئے کہ نماز پڑھتے وقت ہاتھ اوپر باندھنے چاہئیں یا نیچے۔پھر کس طرح انہوں نے صدیوں تک اس لغو بحث کو جاری رکھا کہ تشہد کے وقت انگلی اٹھانی چاہئے یا نہیں اٹھانی چاہئے۔یہ ساری بحثیں ایسی ہی تھیں جیسے مثنوی رومی والے لکھتے ہیں کہ چار فقیر تھے