خطبات محمود (جلد 22) — Page 97
$1941 97 خطبات محمود لیکن اسی جگہ اور اسی دفتر میں جب کوئی کام کرنے والا افسر آتا ہے تو وہ اپنے کام ہزاروں شاخیں نکالتا چلا جاتا ہے اور اسے ہر وقت نظر آتا رہتا ہے کہ میرے سامنے یہ کام بھی ہے میرے سامنے وہ کام بھی ہے۔یوروپین قوموں کو دیکھ لو یہ جہاں جاتی ہیں انہیں کام نظر آ جاتا ہے۔ہندوستانی کہتے ہیں کہ ہم بھوکے مر گئے مگر یوروپین لوگوں کو ہندوستان میں بھی دولت نظر آ رہی ہے اور وہ اس دولت کو سمیٹتے چلے جاتے ہیں۔اسی طرح سیلونی کہتے ہیں کہ ہم بھوکے مر گئے مگر انگریزوں کو سیلون میں بھی دولت دکھائی دیتی ہے۔افغانی کہتے ہیں کہ ہم بھوکے مر گئے مگر انگریزوں کو افغانستان میں بھی دولت دکھائی دیتی ہے۔پھر عرب جیسے سنگلاخ خطہ اور اس کے جنگلوں میں بھی انگریزوں کو دولت دکھائی دیتی ہے۔مصر جیسی وادی میں بھی انہیں دولت دکھائی دیتی ہے۔چین جاتے ہیں تو وہاں دولت کمانے لگ جاتے ہیں مگر چینی کہتے ہیں کہ ہمیں کچھ نہیں ملتا۔تو یہ انگریزوں کی نظر کی تیزی کا ثبوت ہے کہ وہ جہاں جاتے ہیں انہیں دولت دکھائی دینے لگ جاتی ہے اور یہ نظر کی تیزی اخلاق فاضلہ سے ہی حاصل ہوتی ہے۔اگر کسی قوم میں اخلاق فاضلہ پیدا ہو جائیں تو اس کے افراد کی نظر اسی طرح تیز ہو جاتی ہے۔غرض قربانی اور ایثار کا مادہ ایسی چیز ہے جو انسان کی ہمت کو بڑھاتا ہے اور سچ بولنا ایک ایسا وصف ہے جو انسان کا اعتبار قائم کرتا ہے اور محنت کی عادت ایک ایسی چیز ہے جو کام کو وسعت دیتی ہے اور جب کسی شخص میں یہ اخلاق فاضلہ پیدا ہو جائیں تو ایسا آدمی ہر جگہ مفید کام کر سکتا اور ہر شعبہ میں ترقی حاصل کر سکتا ہے۔پس میں تحریک جدید کے کارکنوں کو خصوصیت سے اس امر کی طرف توجہ تا ہوں کہ وہ یہ امر طالب علموں کے ذہن نشین کرتے رہیں کہ انہیں ہمیشہ سے کام لینا چاہئے اور محنت کی عادت اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے اور اس امر کو ان کے اتنا ذہن نشین کریں کہ یہ امر ان کے دل کی گہرائیوں میں اتر جائے کہ دلاتا سچائی۔