خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 96

خطبات محمود 96 * 1941 اور اگر وہ ان اخلاق کی درستی نہ کرے تو تمام قوم کو نقصان پہنچتا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ مسلمانوں میں اخلاق کی طرف بہت ہی کم توجہ ہے بلکہ ابھی تک احمدیوں نے بھی اخلاق کی اہمیت کو پوری طرح نہیں سمجھا۔میرے سامنے اس وقت بچے بیٹھے ہیں جو تحریک جدید کے بورڈنگ میں رہتے ہیں۔میں نے تحریک جدید کے مطالبات میں ایک شق اخلاق فاضلہ کی بھی رکھی ہوئی ہے۔مگر میں نہیں سمجھتا کہ ان بچوں کے سپرنٹنڈنٹ اور اساتذہ وغیرہ اخلاق کی اہمیت کو ان پر پورے طور پر ظاہر کرتے ہوں۔اس لئے کہ تحریک جدید کے بورڈنگ سے نکل کر جو طالب باہر گئے ہیں ان کے متعلق بھی کوئی زیادہ اچھی رپورٹیں نہیں آ رہیں۔حالانکہ ان کے باپ کی اپنے بچوں کو تحریک جدید کے بورڈنگ میں داخل کرنے کی اصل غرض تھی کہ تعلیم کے علاوہ ان کی اعلیٰ تربیت ہو، ان میں محنت کی عادت ہوتی، ان میں اعلیٰ درجہ کی دیانت پائی جاتی، ان میں ہمدردی کا مادہ ہوتا، ان میں سچ کا مادہ ہوتا، ان میں قربانی اور ایثار کا مادہ ہوتا۔اسی طرح وہ ہر کام کے کرتے وقت عقل سے کام لیتے اور وقت کی پابندی کرتے۔اور یہ تمام باتیں ایسی ہیں کہ جب تک ان کو بار بار دہرایا نہ جائے اور جب تک بچوں کو ان باتوں پر عمل نہ کرایا جائے اس وقت تک وہ قوم اور دین کے لئے مفید ثابت نہیں ہو سکتے۔یہ اخلاق ہی ہیں جو انسان کو کہیں کا کہیں پہنچا دیتے ہیں چنانچہ جن لوگوں کو محنت سے کام کرنے کی عادت ہوتی ہے وہ خواہ کسی ملک میں چلے جائیں انہیں کامیابی ہی کامیابی حاصل ہوتی چلی جاتی ہے۔مگر جو ست ہوتے ہیں انہیں گھر بیٹھے بھی کوئی کام نظر نہیں آتا۔میں نے دیکھا ہے بعض افسر سارا دن فارغ بیٹھے رہتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے محکمہ میں کوئی کام ہی نہیں۔انہیں کبھی یہ سوچنے کی توفیق ہی نہیں ملتی کہ ہمارے سپرد جو کام ہوا ہے اس کی کیا کیا شاخیں ہیں اور کس طرح وہ اپنے کام کو زیادہ وسیع طور پر پھیلا سکتے اور اس کے شاندار نتائج پیدا کر سکتے ہیں؟ وہ صرف اتنا ہی کام جانتے ہیں کہ رجسٹروں اور کاغذات پر دستخط کئے اور فارغ ہو کر بیٹھ رہے