خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 66

*1941 66 خطبات محمود سکتا ہے۔اب ہم وہی کام کرتے ہیں دیکھ لو سر کھجلانے کی بھی فرصت نہیں ملتی۔تو اگر کوئی قوم دیانتداری سے دنیا کی اصلاح میں لگ جائے تو ایسی باتوں کے لئے اسے فرصت ہی نہیں مل سکتی۔مگر جب مسلمانوں نے اس کام سے غفلت کی تو یونانی فلاسفروں کی کتابوں کے تراجم کرنے لگ گئے۔اپنے خیال میں تو وہ علمی ترقی کر رہے تھے مگر میرے خیال میں وہ بد ترین جہالت پھیلا رہے تھے۔خدا تعالیٰ کی صفات پر بخشیں اسی زمانہ میں شروع ہوئیں۔خدا تعالیٰ کا کلام عارضی ہے یا ہمیشہ سے؟ ایسی ایسی بے ہودہ اور لغو باتیں ہونے لگیں۔پھر خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا اور آپ کے ذریعہ پھر وہی سیدھا سادہ اسلام دنیا میں آیا اور آپ نے پھر ہمیں یہ بتایا کہ خدا تعالیٰ نے جن چیزوں کو پیدا کیا ہے ان کی تحقیقات بیشک کرو۔یہ سائنس کی ترقی ہے لیکن خدا تعالی خالق لیکن خدا تعالی خالق ہے اسے اگر پھاڑ کر دیکھنا چاہو گے تو کامیاب نہ ہو سکو گے۔اگر اسے دیکھنا چاہتے ہو تو اس کا یہی طریق ہے کہ اس کی عبادت کرو اور اس کا قرب حاصل کرو۔لیکن اسے پھاڑنے کا خیال بھی دل میں نہ لاؤ۔ہماری جماعت اگر ان باتوں کو اچھی طرح سمجھ لے اور ان پر عمل کرے تو وہ گرنے سے بچ سکتی ہے۔مگر میں نے دیکھا ہے اب بھی بعض اوقات ایسی بخشیں شروع ہو جاتی ہیں کہ مادہ ازلی ہے یا نہیں۔مادہ سے تمہیں کیا کہ کب تھا اور کیسے تھا۔اس مسئلہ کا حل نہ زراعت کو کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے اور نہ تجارت یا صنعت و حرفت کو۔پس ایسی لغو باتوں کی طرف توجہ کی کیا ضرورت ہے؟ اور نہ ان کو کوئی حل کر سکتا بھلا یہ تو کوئی حل کرے کہ دنیا محدود ہے یا غیر محدود! مادہ تو ہمارے سامنے نہیں دنیا تو سامنے ہے۔پہلے یہ تو طے کرو کہ یہ دنیا محدود ہے یا غیر محدود۔اگر محدود ہے تو حد کہاں ہے اور جب حد قائم ہو گئی تو پھر اس حد کے متعلق سوال پیدا ہو گا کہ وہ کیا ہے اور محدود ہے یا غیر محدود۔یہ ہمارے سامنے کے سوالات ہیں جو حل نہیں ہو سکتے۔تو مادہ کی بحثوں میں وقت ضائع کرنے کا کیا فائدہ؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا خوب فرمایا ہے کہ کوئی احمق کبھی ہے۔