خطبات محمود (جلد 22) — Page 64
خطبات محمود 64۔$1941 صحت خراب ہے تو بیٹا اندھا پیدا ہو گا۔ماں کے رحم میں کوئی نقص ہے تو بیٹے کے ہاتھ کی دو ہی انگلیاں ہوں گی یا پاؤں میں کوئی نقص ہو گا یا اسی طرح کوئی اور نقص ہو گا اور جب تک ماں کے رحم میں وہ نقص رہے جو بچہ پیدا ہو گا اس کا اثر اس پر ہو گا۔ہاں وہ دور ہو جائے تو پھر تندرست بچے پیدا ہوں گے۔غرض طبعی نتائج ورثہ میں بھی ملتے ہیں۔تندرست ماں باپ کا بچہ تندرست اور بیمار کا بیمار پیدا ہو گا اسی طرح آگ کے پاس بیٹھنے والے کے کپڑے گرم ہو جائیں گے اور برف ہاتھ میں پکڑنے والے کا ہاتھ سرد ہو گا۔مگر ان سیدھی باتوں کو فلسفیوں نے کیسی پریشان گن الجھنیں بنا دیا اور افسوس ہے کہ مسلمانوں میں بھی بدقسمتی سے یہ خیالات رائج گئے۔اس کی بنیاد دراصل یہ خیال ہے کہ انسان کی روح باہر سے آتی ہے۔باہر سے روحیں آنا ماننے کے نتیجہ میں ہی تناسخ وغیرہ عقائد نکلے ہیں۔لیکن قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے کہ روح کہیں باہر سے نہیں آتی بلکہ انسان کے اندر سے پیدا ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بیمار جسم سے بیمار بچہ اور تندرست سے تندرست بچہ پیدا ہوتا ہے۔باہر سے آنا مانیں تو پھر تو بے شک اعتراض ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اسے بری جگہ کیوں رکھ دیا لیکن جب اس کا باہر سے کوئی تعلق ہی نہ ہو تو پھر اعتراض کی کوئی بات نہیں۔ایک شخص غریب ہے اور اپنے معمولی سے مکان میں رہتا ہے لیکن اس پر کوئی اعتراض نہیں کرتا مگر کسی کے ہاں کوئی معزز مہمان آئے ہو شخص اور وہ اسے پاخانہ میں جگہ دے تو ہر ایک اس پر اعتراض کرے گا۔غریب کے گھر پر کوئی اعتراض اس لئے نہیں آتا کہ وہ سمجھتا ہے اس نے تو یہیں رہنا تھا لیکن جو باہر سے آیا ہے اسے پاخانہ میں ٹھہرانے پر ہر کوئی اعتراض کرے گا اور کہے گا کہ وہ تو مہمان تھا اس کی عزت کرنی چاہئے تھی۔تو روحوں کا باہر سے آنا تسلیم کرنے سے ہی یہ اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ اسے خراب جگہ کیوں رکھا گیا؟ لیکن اگر اس کا اندر سے پید اہونا ہی مانا جائے تو پھر کوئی اعتراض نہیں۔ہر قوم کا یہ طریق ہے کہ جب وہ مذہب سے غافل ہو جائے تو ایسے خیالات میں پڑ جاتی ہے۔