خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 612 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 612

* 1941 612 خطبات محمود کہ پہلے ایک عمدہ نسل کو چن لیا جاتا ہے پھر اس میں سے عمدہ حصہ کو چن لیا جاتا ہے اور پھر اس میں سے اور عمدہ حصہ کو چن لیا جاتا ہے اور اس طرح دنیا ترقی کرتی چلی جا رہی ہے۔غرض دنیا کے ہر شعبہ میں انتخاب اور انتخاب کے بعد مزید تگ و دو اور محنت کے ساتھ اسے بڑھانا ہمیں دکھائی دیتا ہے اور یہی وجہ اس کی ترقی کی ہے۔اور جبکہ دنیا میں باقی تمام چیزوں کے متعلق ہمیں یہ نظارہ نظر آتا ہے تو کس طرح ممکن ہے کہ انسان جو اشرف المخلوقات بنایا گیا ہے اس کی ترقی کے راستے اللہ تعالیٰ نے نہ کھولے ہوں۔اُس نے کھولے ہیں اور یقینا کھولے ہیں مگر انسان اپنے گرد و پیش کی اشیاء کی ترقی کی طرف تو توجہ کرتا ہے لیکن وہ اپنی نسل کی ترقی کی طرف کبھی توجہ نہیں کرتا۔ہر زمیندار چاہتا ہے کہ وہ اچھا مرغا لا کر زیادہ انڈے دینے والی اور زیادہ خوبصورت اور کارآمد مرغیاں پیدا کرے۔ہر زمیندار چاہتا ہے کہ وہ اچھا بیل لائے تاکہ اس سے بیلوں کی عمدہ نسل چلے۔ہر زمیندار چاہتا ہے کہ وہ گورنمنٹ فارم سے اچھے سے اچھا بیج خرید کر لائے تاکہ اس کی پیداوار زیادہ ہو۔ہر زمیندار چاہتا ہے کہ وہ اچھی کپاس بوئے تاکہ اس سے اعلیٰ فصل پیدا ہو۔ہر زمیندار چاہتا ہے کہ وہ باغ لگانے سے پہلے عمدہ سے عمدہ پودے لائے تاکہ اس کا باغ نہایت اعلیٰ ہو۔لیکن اس تمام کوشش کے بعد جب وہ اپنی ذات کی طرف آتا ہے تو وہ اس امر کی کوئی کوشش نہیں کرتا کہ اچھی نسل تیار کرے۔وہ اس امر کی کوئی پرواہ نہیں کرتا کہ ایسی نسل پیدا کرے جو خاندان کے لئے عزت کا موجب ہو۔گویا اس کو اس کی تو ضرورت ہے کہ اس کی مرغیاں اچھی ہوں، اسے اس بات کی تو ضرور ہے کہ اس کی بکریاں اچھی ہوں، اسے اس بات کی تو ضرورت ہے کہ اس کے بیل بات رورت اچھے ہوں، اسے اس بات کی تو ضرورت ہے کہ اس کی گندم اچھی ہو لیکن اس بات کی کوئی ضرورت نہیں کہ دنیا میں جو انسان پیدا ہونے والے ہیں وہ بھی اچھے ہوں اور خاندان کی نیک نامی اور عزت کا موجب ہوں۔حالانکہ جسمانی اور روحانی