خطبات محمود (جلد 22) — Page 60
$1941 60 خطبات محمود اسی طرح جو شخص جانتا ہے کہ میرا خدا جاگتا ہے اور سب کچھ دیکھتا ہے وہ وہ کسی وقت سوتا نہیں۔وہ سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے شاید مجھے سزا دینے کا فیصلہ کر لیا ہے مطمئن ہو اور اس طرح وہ اس ماں کی طرح جو جانتی ہے کہ اس کا بچہ مر چکا ہے ہے۔مگر جو لوگ خیال کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ سو بھی جاتا ہے وہ اسی تردد میں رہتے ہیں کہ خدا تو شاید سو رہا ہے اور اس کے جگانے کی کوئی ترکیب ہمیں معلوم : نہیں۔پھر یہ معلوم نہیں کہ وہ کہاں سو رہا ہے؟ کونسا دروازہ کھٹکھٹائیں اور کس مکان پر جا کر اسے جگائیں ؟ ادھر ہمارے بچہ کے پھانسی پانے کا وقت قریب آ رہا ہے۔یہ کیسی اضطراب کی کیفیت ایسے لوگوں پر طاری ہوتی ہے۔اور وہ کیسی مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں؟ اور یہ سارا ظلم ان کم بخت فلاسفروں نے ان پر کیا ہے جنہوں نے خیالات ان کے اندر پیدا کئے۔ایسے لوگ سخت سے سخت سزا کے مستحق ہیں جنہوں نے جاہل لوگوں کو ایسے خیالات میں مبتلا کر کے ان کا چین اور سکھ برباد کر دیا۔وہ تو اپنے خیال میں ایک علمی مشغلہ میں لگے تھے اور دنیا کی پہیلی حل کرتے تھے مگر دراصل انہوں نے لاکھوں انسانوں پر شدید ترین ظلم کیا اور ان کا اطمینانِ قلب چھین کر ان کو ہلاکت کے گڑھے میں دھکیل دیا۔ایک شخص کا بچہ اگر سخت بیمار ہو اور ڈاکٹر علاج کے لئے پاس بیٹھا ہو تو گو اس کے بچہ کی حالت کیسی خطرناک ہو پھر بھی اسے ایک اطمینان ہوتا ہے اور گو اس کی حالت بھی قابلِ رحم ہوتی ہے مگر اس سے بہت زیادہ قابلِ رحم حالت اس انسان کی ہے جس کا بچہ خطرناک طور پر بیمار ہو اور وہ ڈاکٹر کے مکان پر پہنچے تو معلوم ہو کہ وہ سیر کو چلا گیا ہے۔وہ اس کے پیچھے جائے تو پتہ لگے کہ گھر واپس چلا گیا ہے اور جب وہ پھر اس کے مکان پر پہنچے تو معلوم ہو کہ وہ کسی او رمریض کو دیکھنے چلا گیا ہے۔ایسے شخص کی حالت بہت قابل رحم ہوتی ہے کیونکہ ایک طرف تو اکٹر کی تلاش میں حیران ہو رہا ہوتا ہے اور دوسری طرف اسے یہ اضطراب ہوتا ہے کہ بچہ میرے بعد فوت ہی نہ ہو گیا ہو۔اسی طرح جو شخص جانتا ہے کہ میرا خدا