خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 593 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 593

* 1941 593 خطبات محمود چھوڑنے پڑتے تھے، عزیز اور اقارب چھوڑنے پڑتے تھے، وطن چھوڑنا پڑتا تھا، مال چھوڑنا پڑتا تھا، جائدادیں چھوڑنی پڑتی تھیں اس لئے ان چیزوں کی محبت قبول حق کے رستہ میں روک بن جایا کرتی تھی۔اس روک کو وہ دلیلیں بھلا کیا مٹا سکتی تھیں جو انسان کو صرف عقل کے دروازہ تک لے جاتی ہیں۔ہاں جو شخص عقلی دلائل فائدہ اٹھا کر اپنے نفس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جاتا تھا اور اپنے دل سے ہر قسم کے خدشات کو دور کر کے قربانی پر آمادہ ہو جاتا تھا۔اس کے لئے محمد صلی الی و کم کا ماننا بالکل آسان ہو جاتا تھا۔تو دماغ سے کوئی بات منوانا مشکل نہیں ہوتا۔جس چیز کو منوانا سخت مشکل ہے وہ انسان کا دل ہے اور دل ہی مختلف قسم کی روکیں محسوس کرتا ہے۔کبھی کہتا ہے فلاں ضرورت پوری ہو جائے، کبھی کہتا ہے فلاں روک دور ہو جائے تو حق کو قبول کروں گا۔تو انسانی نفس کی یہ حالتیں صداقت کے قبول کرنے کے رستہ میں ہمیشہ روک رہی ہیں، روک ہیں اور روک رہیں گی۔اسی لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا۔اے مومنو جب تم صداقت تسلیم کر لو گے تو فوراً شیطان تم پر حملہ کر دے گا اس لئے ہم تمہیں نصیحت کرتے ہیں کہ جس بات کو، تمہارے دماغ نے صحیح تسلیم کر لیا ہے جس بات کو تم نے دلائل اور مشاہدات سے صحیح مان لیا ہے اسے خوب مضبوطی سے پکڑ کر بیٹھ جاؤ اور پھر اسے چھوڑنا نہیں۔چاہے شیطان تم پر کس قدر حملے کرے۔پھر اصبرُ ڈا میں ایک اور عظیم الشان حکمت کی بات اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ شیطان کا حملہ بھی حقیقی نقصان : نہیں پہنچاتا شیطان کا حملہ صرف دھوکا ہوتا ہے اور گو بظاہر وہ سب حملوں سے زیادہ سخت نظر آتا ہے مگر دراصل وہ سب حملوں سے زیادہ نرم ہوتا ہے۔بلکہ ایک چھوٹا بچہ جو کسی دوسرے کے منہ پر تھپڑ مار دیتا ہے اس تھپڑ سے بھی شیطان کا حملہ نرم ہے گو بظاہر وہ بڑا خطرناک نظر آتا ہے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں شیطان کو خدا تعالیٰ نے کوئی ایسا ہتھیار نہیں دیا جس سے وہ کسی انسان کو جانی یا مالی نقصان پہنچا سکے۔دنیا میں شیطان کے جو انسان چیلے ہیں ان کو یہ بے شک اختیار حاصل ہے