خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 591 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 591

خطبات محمود 591 * 1941 جو در حقیقت نفسانی جنگ ہوتی ہے صرف اکیلے ہی لڑی جا سکتی ہے۔اسی وجہ سے حضرت یح ناصری نے ایک موقع پر فرمایا کہ ہر حص اپنی صلیب آپ اٹھا کر چلے۔2 صلیب اٹھانے کے معنے دراصل یہی ہیں کہ اپنے نفس کو خدا کے لئے قربان کر دیا جائے اور شیطان کا پوری طرح مقابلہ کیا جائے اور حضرت مسیح فرماتے ہیں کہ یہ مقابلہ ایسا ہے جس میں کوئی شخص کسی دوسرے کی صلیب نہیں اٹھا سکتا۔بلکہ انسان جب تک اپنے نفس کو آپ نہ مارے اس وقت تک نجات حاصل نہیں کر سکتا۔یہی وہ امر ہے جس کی وجہ سے ہم عیسائیوں پر اعتراض کرتے اور کہا کرتے ہیں کہ انہوں نے کفارہ کا غلط مسئلہ ایجاد کر لیا کیونکہ جو گناہ انسان کے نفس کے اندر پیدا ہوتے ہیں۔ان کو کوئی دوسرا شخص اٹھا نہیں سکتا۔دوسرے انسان صرف ان امور میں مدد دے سکتے ہیں جو باہر سے پیدا ہوں۔کسی انسان کی ذات سے تعلق رکھنے والے اور قلب کے اندر پیدا ہونے والے گناہوں میں دوسرے سا ساتھی نہیں آ سکتے۔کام پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا جب کبھی تم ایمان لاؤ تو تمہیں یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ پہلا مقابلہ تمہارا اپنے آپ سے ہو گا اور اس مقابلہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا۔تمہارے پاس تمہاری بیوی سوئی ہوئی ہوتی ہے مگر وہ نہیں جانتی کہ تمہارے دل میں کیا شبہات اور وساوس پیدا ہو رہے ہیں۔تمہارے بچے تمہارے پاس لیٹے ہوئے ہوتے ہیں مگر وہ نہیں جانتے کہ تمہارے دل میں کیا خیالات پیدا ہو رہے ہیں اور تم نہیں جانتے کہ ان کے دلوں میں کیا خیالات پیدا ہو رہے ہیں۔کثرت کے ساتھ اس قسم کے واقعات ہوئے ہیں کہ میاں بیوی اکٹھے رہے تھے اور بظاہر ان میں سے ایک جو دوسرے کی قلبی کیفیات سے ناواقف تھا سمجھتا تھا کہ ہمارے آپس کے تعلقات بڑے اچھے ہیں۔مگر رات کو اٹھ کر میاں نے بیوی کو یا بیوی نے میاں کو قتل کر دیا۔جب تک اس میاں نے اپنی بیوی کو قتل نہیں کیا تھا یا جب تک اس بیوی نے اپنے میاں کو قتل نہیں کیا تھا اس وقت تک سو