خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 578 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 578

* 1941 578 خطبات محمود بلکہ آخرت میں بھی عزت بخشتا ہے۔لیکن باوجود اس کے یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ ہمیشہ عفو اسی صورت میں ظاہر ہونا چاہئے کہ ظالم کا مقابلہ نہ کیا جائے کیونکہ تجربہ بتاتا ہے کہ دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو عفو سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور بعض دفعہ ان کے اعمال دنیا کے امن کو برباد کرنے والے اور نیکیوں کو مٹانے والے ہو جاتے ہیں، پس جب تک دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو ظلم کرنے میں خوش وتے ہیں اور متواتر عفو کے نتیجہ میں شرارتوں میں بڑھتے جاتے ہیں۔اس وقت تک جنگ کی ضرورت بھی باقی رہے گی اور دین یہی ہے کہ ایسے موقع پر صبر نہ کرو۔موجودہ جنگ کو دیکھ لو۔جرمنی نے دوسری طاقتوں کو جنگ کے لئے مجبور کر دیا ہے اور اس وقت رحم اسی میں ہے کہ تلوار اٹھائی جائے، بخشش اسی میں ہے کہ دفاع کیا جائے مگر ایسے وقت میں بھی جنگ بہترین چیز نہیں گو اچھی ہے۔حتی کہ جہاد بھی بہترین نیکی نہیں گو وہ اعمال میں سے اعلیٰ درجہ کا عمل ہے مگر اعلیٰ سے اعلیٰ نہیں۔ایک دفعہ رسول کریم صلی ال کی ایک جنگ سے واپس ہوئے تو فرمایا۔جہادِ اصغر ہو چکا۔اب آؤ جہاد اکبر میں مصروف ہوں۔صحابہ نے عرض کیا کہ جہاد اکبر کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا جہاد اکبر اپنے نفسوں کا جہاد ہے۔1 پس گو لڑائی کا جہاد بڑی اعلی چیز حتی کہ جو اس میں شامل نہ ہو وہ ایمان سے خارج ہو جاتا ہے مگر نیکیوں سے اعلیٰ نہیں۔اعلیٰ درجہ کا جہاد وہ ہے جو انسان شیطان سے کرے۔شیطان سے لڑائی اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ قابل قدر ہوتی ہے اور جب رسول کریم صلی الی یم نے خود فیصلہ فرما دیا کہ جہاد اکبر کیا ہے اور آپ نے اپنا نمونہ اس بارہ میں دکھا دیا تو ہماری جماعت کے دوستوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ ان کے لئے اصل جہاد نفس کے ساتھ جہاد ہی ہے۔اس وقت لڑائی ہو رہی ہے۔بڑے خطرات کا وقت ہے۔میں بھی یہی کہتا رہتا ہوں کہ جو لوگ جنگ میں جا سکیں وہ جائیں اور جنگ میں شریک ہوں۔رشتہ دار اور دوست بھی کہتے ہیں کہ جاؤ گورنمنٹ بھرتی کر رہی ہے اس میں شریک ہو جاؤ۔یہ لڑائی گو دینی نہیں مگر برطانیہ جو لڑائی لڑ رہا ہے وہ چونکہ جہاں تک