خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 560 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 560

* 1941 560 خطبات محمود کر کے اتنا بڑھ جائے گا کہ تمام دنیا پر چھا جائے گا۔آج مسلمانوں کی جو کچھ حالت ہے اس سے بھی زیادہ کمزور حالت اُس زمانہ میں عیسائیوں کی تھی۔پھر جس طرح گاڑی کے سفر میں سوتے سوتے انسان کی آنکھ کھلے تو وہ کہیں کا کہیں پہنچا ہوا ہوتا ہے۔اسی طرح مسلمان رات کو ایسی حالت میں سوئے کہ تمام یورپ ان کے ماتحت تھا مگر جب ان کی آنکھ کھلی تو انہوں نے دیکھا کہ یورپ ان کی گردن پر سوار ہے اور وہ اس کے غلام بنے ہوئے ہیں۔مگر ہمارے لئے ان حالات میں بھی مایوسی اور گھبراہٹ کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ جس خدا نے عیسائیت کی ترقی کی وہ خبر دی تھی جو انسانی واہمہ اور قیاس میں بھی نہیں آ سکتی تھی۔اُسی خدا نے یہ خبر بھی دی ہے یہ تبدیلی اور تغیر اسلام کے لئے مفید ہو گا۔پس ہمارے لئے ڈرنے اور گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں۔لیکن یہ خدا کے خوف کا مقام ضرور ہے۔کیونکہ حدیثوں سے یہ ایسی گمراہی کا زمانہ ثابت ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللی کرم فرماتے ہیں۔رات کو انسان کسی گا مومن ہونے کی حالت میں سوئے گا اور صبح کافر اٹھے گا۔2 گویا کفر کا اتنا غلبہ ہو کہ ایمان کا دعویٰ کرنے والے گھنٹوں میں اپنے ایمان کو ضائع کر دیں گے۔اور لالچ یا خوف کی وجہ سے اپنے مذہب کو ترک کر دیں گے۔چنانچہ صبح کو وہ مومن ہوں گے اور شام کو کافر ہوں گے۔شام کو مومن ہوں گے اور صبح کو کافر ہوں گے۔یہ عیسائیت کا غلبہ اور اس کے رعب کی ایک علامت ہے بلکہ عیسائیت کو جانے دو اس وقت عیسائیت کا سوال نہیں حکومتوں کا سوال ہے اور رسول کریم صلی الیم نے بتایا ہے کہ ان حکومتوں کا اتنا رعب ہو گا کہ وہ لالچ دے کر یا ڈرا دھمکا کر لوگوں کو مذہب سے منحرف کر دیں گی۔غرض اس فتنہ کی رسول کریم صلی اللہ ہم نے اس قدر اہمیت بیان فرمائی ہے کہ اپنے اگر مسلمان کچھ بھی سوچتے تو آج ان کی وہ حالت نہ ہوتی جو نظر آ رہی ہے۔- آج وہی زمانہ ہے جس کے متعلق رسول کریم صلی الم نے اس خطرہ کا اظہار فرمایا ہے کہ شام کو انسان مومن ہو گا اور صبح کو کافر۔صبح کو مومن ہو گا اور شام کو کافر۔