خطبات محمود (جلد 22) — Page 556
* 1941 556 خطبات محمود ایک دفعہ اسلام کے مقابلہ میں بالکل تباہ ہو جائے گی۔مگر پھر دوبارہ ترقی کر کے وہ تمام دنیا پر چھا جائیں گے۔جیسا کہ سورہ کہف کی تفسیر میں میں نے اس مضمون کو بیان بھی کیا ہے۔اور واقعہ یہی ہے کہ عیسائیوں کے تنزل کو دیکھ کر کسی انسان کے وہم میں بھی یہ بات نہیں آ سکتی تھی کہ وہ دوبارہ ترقی کر جائیں گے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام سے پہلے عیسائیت کا مغربی کرہ پر غلبہ تھا۔چنانچہ روما کی حکومت عیسائیوں کے قبضہ میں تھی، عرب کے کچھ حصہ پر بھی قابض تھے۔شام اور فلسطین میں بھی ان کا غلبہ تھا یہاں تک کہ انگلستان اور ہسپانیہ بھی ان کے ماتحت تھا مگر جس وقت اسلام نے ترقی شروع کی تو عیسائیوں کی حکومت اتنی زوال پذیر ہو گئی کہ روما کا قیصر ایک عرصہ تک مسلمان بادشاہوں کو خراج دیتارہا۔گویا وہ ایسا ہی کمزور تھا جیسے آجکل ہندوستان کی ریاستیں انگریزوں کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔مثلاً ، مثلاً ریاست جے پور ہے، جودھپور ہے، گوالیار ہے، میسور ہے۔ان ریاستوں کے راجوں مہاراجوں کو گو ان کی رعایا حضور اور آقا اور ان داتا وغیرہ کہے مگر دنیا جانتی ہے کہ ایک معمولی انگریز افسر کے سامنے بھی ان کی کوئی حیثیت نہیں۔اسی طرح روما کا قیصر مسلمانوں کو خراج دیا کرتا تھا اور اس کی اسلامی سلطنت کے مقابلہ میں کوئی حیثیت ہی نہیں تھی۔پھر مسلمانوں نے اس سلطنت کو بھی تباہ کر دیا اور آخر ہسپانیہ وغیرہ کو بھی فتح کر لیا۔عیسائیت کی اس کمزوری کے زمانہ میں کوئی شخص و ہم بھی نہیں کر سکتا تھا کہ یورپ پھر ترقی کر جائے گا۔قیدیوں کی سی ان کی حالت تھی اور صرف ایک بڑ اعظم میں وہ گھرے ہوئے تھے اور اس کے بھی دائیں اور بائیں اسلامی سلطنتیں موجود تھیں۔پھر یورپ کی کمزوری کی یہ حالت تھی کہ سپین والوں نے جب انگلستان پر حملہ کیا تو انگلستان کی ملکہ الزبتھ نے ترکوں کے بادشاہ سے مدد کی درخواست کی اور لکھا کہ ترک بڑے بہادر ہوتے ہیں اور وہ عورتوں کی حفاظت کیا کرتے ہیں۔میں عورت ذات ہوں اور ایک ظالم بادشاہ میرے ملک پر حملہ آور ہو گیا ہے میری مدد کی جائے۔