خطبات محمود (جلد 22) — Page 554
* 1941 554 خطبات محمود غالب آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ایک اصل تو وہ ہے جو جمہوریت کو اس کے تمام عیوب سمیت دنیا میں ترقی دینے کی کوشش کر رہا ہے۔اور دوسرا اصل وہ ہے جو قابلیت اور لیاقت کو دینا چاہتا ہے اور جمہوریت کی روح کو دبانا چاہتا ہے۔یہ دو ترقی اصول اس وقت دنیا میں ایک دوسرے کے مقابلہ میں غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ایک اصل تو اس بات کی جدو جہد ہے کہ افراد کی طاقت کو بڑھا کر دنیا میں غلبہ حاصل میں مشغول کیا جائے اور ایک اصول اس غرض کے لئے کوشاں ہے کہ اعلیٰ قابلیت کو راہ نمائی کی باگ ڈور دے کر دنیا پر غلبہ حاصل کیا جائے۔ان دونوں گروہوں نے دنیا پر کامل طور پر غلبہ حاصل کیا اور ساری دنیا ان دو گروہوں میں تقسیم ہو کر رہ گئی ہوا ہے ہے۔”1 خطبہ جمعہ جنگ سے قریباً سوا سال پہلے کا چھپا ہواموجود ہے۔اور آج اس جنگ میں سب دنیا اقرار کر رہی ہے کہ یہ جنگ دو اصول کی ہے۔ایک طرف ڈیما کریسی اور دوسری طرف ڈکٹیٹر شپ ہے۔تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اتنا عظیم الشان نشان ظاہر ہوا ہے کہ اگر دنیا کے سامنے اسے صحیح طور پر پیش کیا جائے تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ متعصب سے متعصب انسان بھی اس پر کوئی اعتراض کر سکے۔آخر وہ اس امر کا کیا جواب دے گا کہ کیوں اڑھائی ہزار سال تک ان پیشگوئیوں کو کسی نے اپنے زمانہ پر چسپاں نہ کیا اور پھر وہ اس بات کا کیا جواب دے گا کہ کیوں گزشتہ اڑھائی ہزار سال میں یہ باتیں پوری نہ ہوئیں اور اس وقت پوری ہوئیں ایک شخص نے یہ دعویٰ کیا کہ یہ پیشگوئیاں میرے زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں۔اب تو زمانہ بہت کچھ بدل چکا ہے ورنہ پہلے یہ حالت تھی کہ عیسائیوں کو دجال کہنے پر ہی سارے مسلمان ہمارے مخالف ہو گئے تھے اور کہتے تھے کہ احمدی۔جب