خطبات محمود (جلد 22) — Page 547
* 1941 547 خطبات محمود بات برداشت نہ ہو سکی اور انہوں نے اپنی جائداد کا بہت سا حصہ فروخت کر کے انہیں آزاد کرا دیا مگر اتنے مظالم کے بعد جس وقت ان کو حکم ہوا کہ جاؤ اور دشمنوں سے لڑائی کرو تو ان کو اس خیال سے تکلیف محسوس ہوئی کہ اب ہمیں لوگوں کو اپنے ہاتھ سے قتل کرنا پڑے گا۔بعض صحابہ کی بے شک ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے دلوں میں غصہ تھا مگر ان کا یہ غصہ بھی کسی ذاتی تکلیف کی وجہ سے نہیں بلکہ رسول کریم صلی للی نام پر کفار کے مظالم کی وجہ سے تھا۔پھر یہ مثالیں بھی زیادہ تر پر انصار میں نظر آتی ہیں اور انصار کی طرف سے اس غصہ کا اظہار ان کی نیکی کا ثبوت ہے۔کیونکہ انصار مدینہ میں رہتے تھے اور وہ قریش مکہ کے مظالم کا تختہ نہیں بنے تھے۔اگر مہاجرین کی طرف سے غصہ کا اظہار ہوتا تو خیال کیا جا سکتا تھا کہ انہیں چونکہ ذاتی طور پر کفار سے تکالیف پہنچی تھیں اس لئے ان کے دلوں میں غصہ پایا جاتا تھا مگر انصار کے متعلق یہ خیال ہی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ انہیں ذاتی طور پر کوئی تکلیف نہیں پہنچی تھی۔پس ان کا غصہ محض خدا اور اس کے رسول کے لئے تھا اور یہ بذاتِ خود ایک بہت بڑی نیکی ہے۔چنانچہ انصار کے اس جوش کا ثبوت اس واقعہ سے بھی ملتا ہے جو میں بارہا سنا چکا ہوں کہ جنگ بدر میں دو انصاری نوجوانوں نے حضرت عبد الرحمان بن عوف سے کہا کہ اے چا وہ ابو جہل کونسا ہے جو رسول کریم صلی علیکم پر ظلم کیا کرتا ہے۔ہمار اجی چاہتا ہے کہ اسے قتل کریں۔7 پس اس غصہ کا اظہار کرنے والے انصاری لوگ تھے۔مگر ان کا غصہ بھی خدا کے لئے ہی تھا۔مکہ والے جن کو ذاتی طور پر کفار سے تکالیف پہنچی تھیں ان کی یہ حالت تھی کہ انہیں لڑائی کرنا سخت ناپسند تھا۔(بعض فقرات حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق بھی ایسے پائے جاتے ہیں جن سے ان کے غصہ کا اظہار ہوتا ہے مگر وہ غصہ بھی عارضی تھا۔دوسرے کئی مواقع پر ان کے متعلق بھی یہ امر ثابت ہے کہ وہ لڑائی کو پسند نہیں کرتے تھے) مگر باوجود اس کے انہیں لڑائیاں کرنی پڑیں کیونکہ خدا نے کہا کہ اس کے