خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 474 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 474

* 1941 474 خطبات محمود ساتھ ہی یہ بھی فرمایا تھا۔پھر کوئی اور بات سناتا۔اور دوسرے صحابہ اسے سن کر اپنے ایمان کو تازہ کرتے۔تو مومنوں کا ایک دوسروں سے ملنا اور دینی باتوں میں لینا ایمان کی تازگی کے لئے ضروری ہوتا ہے۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ میرے ایک استاد تھے انہوں نے آپ کو درسی کتب نہیں پڑھائی تھیں بلکہ روحانی طور پر بزرگ سمجھ کر حضرت خلیفہ اول ان سے ملا کرتے تھے۔اور ان کے روحانی علوم۔مستفیض ہوتے تھے) ان سے ایک دفعہ ملاقات میں کچھ وقفہ ہو گیا اور تعلیم میں مشغول رہنے کی وجہ سے میں جلدی ان سے مل نہ سکا۔چند دنوں مشغول کے بعد ان سے جا کر ملا تو وہ کہنے لگے۔نور الدین۔تم ہمیں اتنے دن ملے نہیں۔حضرت خلیفہ اول فرماتے کہ میں نے کہا۔حضور سبق کچھ زیادہ تھے ان میں رہنے کی وجہ سے دیر ہو گئی ہے۔وہ کہنے لگے کیا تم نے کبھی قصاب کی دکان دیکھی ہے؟ میں نے کہا کیوں نہیں۔بہت دفعہ دیکھی ہے۔انہوں نے کہا کبھی تم نے دیکھا ہے۔که قصاب گوشت کاٹتے کاٹتے تھوڑی دیر کے بعد چھریاں آپس میں رگڑ لیتا آپ فرمانے لگے ہاں میں نے دیکھا ہے قصاب ایسا ہی کیا کرتا ہے۔انہوں نے کہا تمہیں کچھ پتہ ہے۔قصاب ایسا کیوں کرتا ہے۔قصاب دو چھریوں کو آپس میں اس لئے رگڑتا ہے کہ گوشت کاٹتے کاٹتے چُھری کی دھار پر چربی لگ جاتی ہے جس سے وہ کند ہو جاتی ہے اس پر قصاب اس چھری کو دوسری چھری سے رگڑ لیتا ہے اور وہ پھر تیز ہو جاتی ہے۔یہ مثال دے کر وہ کہنے لگے دیکھو نور الدین ہم کو تمہاری ملاقات کا بھی اسی لئے شوق ہے۔ہم سارا دن کئی قسم کے کام کرتے رہتے ہیں۔ان کاموں میں مشغول رہنے کی وجہ سے چُھریوں کی طرح ہماری دھار بھی کند ہو جاتی ہے۔تم آتے ہو تو ہماری اور تمہاری چُھریاں آپس میں رگڑی جاتی ہیں اور تمہاری چُھری بھی تیز ہو جاتی ہے اور ہماری چھری بھی تیز ہو جاتی ہے۔پس میں جماعت کے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ جہاں رمضان کے روزے رکھیں وہاں گھروں میں بھی کثرت سے قرآن کریم کی تلاوت کریں اور