خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 448 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 448

* 1941 448 خطبات محمود ہے، انہیں یہ کہہ رہے تھے کہ تم جہاں اندر بیٹھے تھے وہیں جا بیٹھو میں اسی حالت میں تمہاری تصویر لینا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہہ رہے تھے کہ ہم وہاں نہیں جاتے۔میں نے جب ان کی یہ باتیں سنیں تو میں نے سپاہیوں سے کہا کہ تم سب پہلے اندر بیٹھے ہوئے تھے اور کئی بھلے مانس اس کے گواہ ہیں۔میں نے خود تمہیں اند ربیٹھے دیکھا، درد صاحب نے تمہیں اندر بیٹھے دیکھا، مرزا مظفر احمد اور مرزا ناصر احمد نے تمہیں اندر بیٹھے دیکھا ہمارے عملہ کے اور کئی آدمیوں نے تم کو اندر بیٹھے دیکھا ہے۔اب اس میں تمہارا کیا حرج ہے کہ پھر تم وہیں جا بیٹھو اور تمہاری اس وقت کی تصویر لے لی جائے اگر تمہارا اندر آنا قانون کے مطابق تھا تو تم اب بھی وہاں بیٹھ سکتے ہو اور اگر تمہارا اندر بیٹھنا قانون کے خلاف تھا تو تم اپنی غلطی کا اقرار کرو۔اس پر وہ کہنے لگے کہ ہم تو اندر بیٹھے ہی نہیں۔میں نے ان سے کہا کہ تین دفعہ تو میں نے تمہیں اندر بیٹھے دیکھا ہے۔اسی طرح درد صاحب نے تمہیں اندر بیٹھے دیکھا خلیل احمد سے تم نے جو باتیں کیں وہ اندر ہی کیں اسی طرح تمہیں مظفر احمد نے دیکھا، ناصر احمد نے اندر دیکھا۔اب تم کس طرح کہہ رہے ہو کہ تم اندر بیٹھے ہی نہیں اور اتنا بڑا جھوٹ بولتے ہو۔مگر اس پر بھی انہوں نے یہی کہا کہ ہم اندر بالکل نہیں بیٹھے۔اتنے میں مرزا مظفر احمد نے کہا کہ میں جب آیا تھا تو اس وقت بھی یہ سب سپاہی اندر بیٹھے تھے اور نہ صرف اندر بیٹھے ہوئے تھے بلکہ ایک سپاہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ خلافِ قانون اپنی پیٹی کھول کر بیٹھا تھا مگر وہ یہی کہتے چلے گئے کہ ہم اندر نہیں گئے۔اس پر میں نے انہیں کہا کہ مجھے افسوس ہے۔آج مجھے ذاتی طور پر اس بات کا تجربہ ہوا ہے کہ عدالتیں کن جھوٹے آدمیوں کی گواہیوں پر لوگوں کو سزائیں دیتی ہیں۔میں نے ان سے کہا تم وہ ہو کہ تمہیں اس بات کا علم ہے کہ میں تمہارے پاس آیا اور میں نے تمہیں اندر بیٹھے دیکھا، ایک دفعہ نہیں بلکہ تین دفعہ۔پھر تم نے درد صاحب سے یہاں باتیں کیں، تم نے خلیل احمد سے یہاں باتیں کیں، تم نے مظفر احمد سے یہاں باتیں کیں، تم نے ناصر احمد سے