خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 443

* 1941 443 خطبات محمود کاغذات نکالے اور مجھے فوراً معلوم ہو گیا کہ خلیل احمد جو کچھ کہتا ہے ٹھیک ہے۔میں نے وہ اشتہار سب کا سب نہیں پڑھا بلکہ صرف ایک سطر دیکھی۔اس کا مضمون کچھ اس قسم کا تھا کہ گورنمنٹ نے بعض ہندوستانی سپاہیوں کو کسی جگہ مروا دیا ہے۔غرض بغیر اس کے کہ میں اس اشتہار کو پڑھتا صرف ایک سطر دیکھ کر اور خلیل احمد کی بات کو درست پا کر میں نے وہ پلندہ گور میں ڈال دیا۔اور درد صاحب کی طرف آدمی بھجوایا کہ وہ فوراً مجھ سے آکر ملیں۔درد صاحب ایک دو منٹ کے بعد ہی سیڑھیوں پر آگئے۔میں سیڑھیوں میں ان کے پاس گیا اور میں نے ان کے ہاتھ میں وہ پیکٹ دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیکٹ خلیل احمد کے نام آیا ہے اور اس نے مجھے ابھی آکر دیا ہے۔اس نے مجھے بتایا تھا کہ یہ پیکٹ گورنمنٹ کے خلاف معلوم ہوتا ہے اور جب میں نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کس طرح پتہ لگا کہ یہ گورنمنٹ کے خلاف ہے تو اس نے بتایا کہ میں نے بغیر گور پھاڑنے کے اندر کے کاغذات نکال کر دیکھے تھے اور مجھے اس کا مضمون گورنمنٹ کے خلاف معلوم ہوا۔اس پر میں نے بھی بغیر پھاڑنے کے اس میں سے کاغذات نکال کر دیکھے تو وہ آسانی سے باہر آ گئے اور اس پر نظر ڈالتے ہی مجھے معلوم ہو گیا کہ وہ گورنمنٹ کے خلاف ہیں۔نہ صرف اس لئے کہ ایک سطر جو میں نے پڑھی اس کا مضمون گورنمنٹ کے خلاف تھا بلکہ اس لئے بھی کہ گورنمنٹ کے خلاف جو اشتہارات وغیرہ شائع کئے جاتے ہیں وہ دستی پریس پر چھاپے جاتے ہیں اور وہ کاغذات بھی دستی پریس پر ہی چھپے ہوئے تھے اس پیکٹ کے اوپر جو پتہ لکھا ہوا تھا وہ خوش خط لکھا ہوا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کسی مسلمان نے لکھا ہے۔یہ ہے۔یہ تو میں نہیں کہہ سکتا کہ اس میں مرزا کا بھی لفظ تھا یا نہیں مگر ”صاحبزادہ خلیل احمد “ ضرور لکھا ہوا تھا۔ص کا دائرہ بھی بڑا اچھا تھا اور ح کے گوشے بھی خوب نکالے ہوئے تھے اور یوں معلوم ہوتا تھا جیسے پتہ کسی مسلمان کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے۔