خطبات محمود (جلد 22) — Page 407
* 1941 407 خطبات محمود یزیدی رہتے ہیں۔قادیان میں ہر قسم کی خرابیاں پیدا ہو چکی ہیں۔قادیان والے ختم نبوت کے منکر ہیں۔قادیان والے قرآن کریم کی کوئی خدمت نہیں کر رہے۔اور “ قادیانی ہے خلیفہ (نعوذ بالله) محمد رسول اللہ صلی الم کا بد ترین دشمن ہے ”2 گویا وہی مثال جس طرح بچہ ایک کھلونے کو بڑے اشتیاق سے لیتا ہے اور جب دیکھتا ہے کہ اس کا مقصد اس کھلونے سے حاصل نہیں ہوا تو اسے توڑ کر الگ ہو جاتا ہے۔اسی طرح ان لوگوں کے مقاصد بھی جب پورے نہ ہوئے تو ہٹ گئے۔میں نہیں کہہ سکتا کہ باقی بچوں کو بھی اپنے بچپن کے اس قسم کے واقعات یاد ہیں یا نہیں مگر مجھے خوب یاد ہے کہ میں نے بچپن میں ریل کی شدید خواہش کی۔میں اپنے اندازہ کے مطابق سمجھتا ہوں کہ بچہ کو دور سے جو کھلونا نظر آتا ہے اس کے متعلق وہ یہ خیال کرتا ہے کہ وہ کوئی حقیقی چیز ہے مگر جب اسے حاصل کر کے معلوم کرتا ہے کہ وہ حقیقی چیز نہیں تو اسے پھینک دیتا ہے۔میں نے بھی چونکہ ریل دیکھی ہوئی تھی اس لئے میرا اندازہ تھا کہ جس ریل کی میں خواہش کر رہا ہوں وہ بھی ریل کا کچھ نہ کچھ کام ضرور کرے گی اور میں اپنے بچپن کی سادگی سے یہ خیال کرتا تھا کہ اگر زیادہ نہیں تو وہ ایک آدمی کو تو ضرور اٹھا لے گی چنانچہ مجھے یاد ہے میں نے اسے کنجی دے کر اس پر پیر رکھنے کی کوشش کی مگر اس پر آ نہ سکا۔وہ ریل بھی کچھ بڑی تھی اس لئے میں نے اس پر ایڈی رکھ دی مگر میرے ایڑی رکھتے ہی وہ گاڑی کچل کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی۔اس پر میں نے سمجھ لیا کہ یہ چیز میرے کام کی نہیں۔چنانچہ نے اس کو پرے پھینک دیا۔اپنے ذہن میں میں یہ خیال کرتا تھا کہ ہم مٹی کے گھر بنانے کے لئے اس پر مٹی ڈھو کر لایا کریں گے۔میں سمجھتا ہوں یہی خیال پر بچوں کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے۔جب وہ دور سے سے کسی کھلونے کو دیکھتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ ہم اس سے کام لیں گے۔ریل کو دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ یہ کچھ نہ ریل کا کام ضرور دے گی اور اگر زیادہ آدمی نہیں تو ایک آدمی تو اس میں ضرور بیٹھ سکے گا۔گھوڑے کو دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ وہ کچھ نہ کچھ بوجھ ضرور اٹھائے گا مگر طور۔