خطبات محمود (جلد 22) — Page 392
* 1941 393 (24) خطبات محمود ان پیر جماعت احمدیہ کے لئے مشکلات کے ایام (فرموده یکم اگست 1941ء) تشہد، تعوّذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔مجھے کھانسی اور گلے کی خرابی کی شکایت ہے اس لئے زیادہ بول نہیں سکتا لیکن جماعت کو اس امر کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق کبھی دن آتا ہے اور کبھی رات آتی ہے اسی طرح الہی جماعتیں جو ہوتی ہیں بھی کبھی دن کی کیفیت آتی ہے اور کبھی رات کی کیفیت آتی ہے۔کبھی اللہ تعالیٰ ان کے لئے سہولت بہم پہنچا دیتا ہے اور کبھی ان کے لئے مشکلات پیدا کر دیتا ہے۔مومن کافر اور منافق میں یہی فرق ہوتا ہے کہ ایسی تکالیف کے دنوں میں اور ایسی مشکلات کے وقتوں میں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کافر مایوس ہو جاتا ہے اور کافروں کے لئے زیادہ تر ایسے ہی وقت آتے ہیں۔کامیابیوں کے وقت کفار کے لئے محدود اور تھوڑے ہوتے ہیں۔میری مراد ان کفار سے ہے جو انبیاء یا ان کی جماعتوں کے مقابلہ پر کھڑے ہوتے ہیں۔ان کے سوا جو کفار ہوتے ہیں ان سے اللہ تعالیٰ کا معاملہ اور ہوتا ہے اور وہ اپنی دنیوی جدو جہد اور محنت کے مطابق نتائج دیکھ لیتے ہیں لیکن جو کفار انبیاء اور ان کی جماعتوں کا مقابلہ کرتے ہیں ان کی محنتیں بہت کم نتیجہ خیز ہوتی ہیں۔وہ اگر سوروپیہ خرچ کریں تو ایک روپیہ کا نتیجہ نکلتا ہے اور اگر سو آدمی ایک کام پر لگائیں تو ایک آدمی کے برابر کام ہوتا ہے۔مگر الہی جماعتوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ بالعموم ان کاموں میں اللہ تعالیٰ برکت دیتا ہے۔