خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 320

* 1941 321 خطبات محمود حفاظت کے لئے موجود تھا۔غرض جتنی جنگیں ہوئیں ان میں یہ شامل ہوا اور اس نے مسلمانوں کا مقابلہ کیا۔پھر اس کے دل میں اس قسم کا بغض بھرا ہوا تھا کہ جب مکہ فتح ہوا تو وہ عرب کو چھوڑ کر افریقہ بھاگ گیا اور کہنے لگا کہ میں اب اس ملک میں بھی نہیں رہ سکتا جس میں مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہو گیا ہے مگر اس کی بیوی جس کے دل کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت قبول کرنے کے لئے کھول دیا تھا وہ رسول کریم صلی العلیم سے عکرمہ کے متعلق معافی مانگ کر اسے بلانے کے لئے چل پڑی۔اتفاق ایسا ہوا کہ وہ جہاز جس پر سوار ہو کر عکرمہ نے افریقہ جانا تھا اس کو نہ ملا۔اتنے میں اس کی بیوی پہنچ گئی اور وہ اسے اپنے ساتھ لے آئی۔رسول کریم صلی الی یوم کے اس احسان کا اس کی طبیعت پر اثر ہوا اور اس کے دل میں نرمی پیدا ہونی شروع ہوئی اس کے بعد جب اس نے مزید غور کیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے ہدایت دے دی اور وہ مسلمان ہو گیا۔پھر کوئی موقع ایسا نہیں آیا جب اسلام کی خاطر اس نے اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش نہ کیا ہو اور خطرناک سے خطرناک جنگوں میں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالا ہو۔ایک جنگ جو عیسائیوں سے ہو رہی تھی جس میں عیسائیوں کی بہت بڑی تعداد شامل تھی اس میں عکرمہ نے اسلامی سرداروں سے کہا ہمیں موقع دیا جائے کہ ہم تھوڑے سے آدمیوں کو اپنے ساتھ لے کر دشمن پر حملہ کر دیں تاکہ ہمارا رعب ان پر قائم ہو۔عیسائیوں کے لشکر کی کم سے کم تعداد تین لاکھ اور زیادہ سے زیادہ دس لاکھ بتائی جاتی ہے اگر اوسط نکال لی جائے تو بہر حال پانچ لاکھ سے کم اس کی تعداد نہیں تھی اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کا لشکر صرف ساٹھ ہزار تھا۔ایسے خطرناک موقع پر اس نے تجویز پیش کی کہ اسلامی لشکر میں سے صرف چند آدمیوں کو حملہ کرنے اجازت دی جائے تاکہ مسلمانوں کا رعب قائم ہو۔جب اسلامی سرداروں کے سامنے یہ معاملہ پیش ہوا تو انہوں نے کہا ہم کس طرح مسلمان بہادروں کو خطرہ کے میں دھکیل دیں یہ تو ان کو اپنے ہاتھوں ہلاکت کے گڑھے میں گرانے والی بات ہے۔منہ