خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 308

* 1941 309 خطبات محمود ہوتی ہے جنہوں نے فنا ہونا اور مٹ جانا ہوتا ہے۔اس سال کی گندم پچھلے سال کی گندم کی نسل ہے اور گندم عام طور پر دس پندرہ سال سے زیادہ محفوظ نہیں رہ سکتی۔ہزار سال تک ایک گندم کا سلسلہ جاری نہیں رہ سکتا اس لئے اس کے واسطے اولاد رو سلسلہ جاری کیا ہے۔گو یہ تناسل ایک دوسرے قاعدہ کے ماتحت ہے مگر بہر حال ناسل کا سلسلہ جاری ضرور ہے۔غرض جن چیزوں نے ہمیشہ کے لئے فائدہ نہیں دینا ہوتا اور ان کے اندر فنا کا سلسلہ جاری ہوتا ہے انہی کے لئے اولاد کا سلسلہ ہے۔یہ سلسلہ کبھی نر اور مادہ کے ملنے سے اور کبھی بیچ اور زمین کے ملنے سے جاری ہوتا ہے۔چنانچہ یہ قانون بیان فرما کر فرماتا ہے ليسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ خدا تعالیٰ کا مثل کوئی نہیں یعنی باقی سب مخلوق جن قوانین کے ماتحت چل رہی ہے خدا تعالیٰ پر وہ قانون اثر انداز نہیں۔سو اس بات سے نتیجہ نکلتا ہے ہے کہ اس جیسی کوئی چیز نہیں۔باقی چیزیں جوڑوں سے ترقی کرتی ہیں ترقی کرتی ہیں اور اس لئے دوسروں کی محتاج ہوتی ہیں۔اور یہ ثبوت ہوتا ہے اس بات کا کہ وہ خدا نہیں ہو سکتیں کیونکہ ان پر موت بھی وارد ہوتی ہے اور انہیں احتیاج بھی ہے۔غرض كَمِثْلِہ سے یہ معنے لینا کہ اس کی ایک مثل ہو سکتی ہے جہالت کی بات ہے۔اگر یہ معنے کرنے والا عربی لغات سے ذرا بھی واقف ہوتا تو ایسے معنے گز نہ کر سکتا۔قرآن کریم عربی زبان میں ہے اردو میں نہیں کہ اس آیت کے معنے ہو سکیں کہ اس کی مثل کی مثل کوئی نہیں ہو سکتا۔اس کا یہ ترجمہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے آریہ کہتے ہیں کہ قرآن کا خدا مکار ہے۔کیونکہ اس نے فرمایا ہے کہ واللہ خَيْرُ الْمَكِرِينَ 5 اردو میں تو مکار بُرے معنوں میں استعمال ہوتا ہے مگر عربی میں اس کے معنے تدبیر کے ہیں۔پنجابی اور اردو کا مکر اور ہے اور عربی کا اور۔اسی طرح لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ کے یہ معنے نہیں کہ اس کی مثل کی مثل نہیں ہو سکتی۔عربی میں بعض حروف زائد ہوتے ہیں اور ان کے معنے صرف تاکید کے ہوتے ہیں۔یہ ی" بھی ایسے حروف میں سے ایک ہے اگر عربی میں کہیں کہ لیسَ مِثْلُهُ شَيْءٌ تو اس کے - وو