خطبات محمود (جلد 22) — Page 304
* 1941 305 خطبات محمود مقابل کوئی بچہ ایک معمولی سی گھوڑی پر سوار ہو تو وہ بچہ اس سے آگے بڑھ جائے گا۔اسی طرح فرماتا ہے کہ اے میرے رسول! تم ان سے کہہ دو کہ میں خدا نہیں ہوں مگر حقیقی خدا پر میرا سہارا ہے اور تم خود خدا بنتے ہو۔اب دیکھیں دونوں میں سے کون جیتتا ہے؟ پھر فرمایا وَالَيْهِ أُنيب - تم کیا طاقت رکھتے ہو کمزور بندے ہو مگر میں اس خدا کی طرف جھکتا ہوں جو سب طاقتوں کا مالک ہے۔جو شخص خدائی کا دعویٰ کرتا ہے وہ ہر قسم کی دعاؤں سے محروم ہو جاتا ہے۔سچے خدا کا پرستار جب کسی تکلیف میں پڑتا ہے اس کا بچہ بیمار ہوتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کے آستانہ پر گر جاتا اور اس سے دعا کرتا ہے کہ میری تکلیف دور کر دے، میرے بچے کو شفا دے دے۔قرض خواہ تنگ کرتے ہیں تو وہ خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا اور اس سے التجا کرتا ہے کہ میرا قرض خواہ مجھے ذلیل کرنا چاہتا ہے تو میری فریاد سن اور اس ذلت سے نجات کے سامان پیدا کر دے۔اس سے ایک تو اس کے دل کی بھڑاس نکل جاتی ہے اور دوسرے ایک اطمینان حاصل ہو جاتا ہے کہ میرا ایک رب اور خدا ہے جو میری مدد کرے گا یا وہ گورنمنٹ کے کسی قانون کی زد میں آ جاتا ہے۔تو خدا کے حضور جھکتا اور اس سے دعا کرتا ہے کہ میں کمزور ہوں حکومت طاقت ور ہے اس کے فوجیں ہیں اور ان کے گھمنڈ پر وہ مجھ پر ظلم کرتی ہے۔میں بالکل بے بس اور بے کس ہوں اور حکومت کے ساتھ مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتا۔اے میرے خدا تو ہی میری مدد کر۔اس سے اس کے دل کی بھڑاس بھی نکل جاتی ہے اور اگر صحیح طور پر دعا کی گئی ہو تو ز ہو تو زندہ خدا اس کی مدد بھی کرتا ہے۔لیکن جو خود مدعی ہے کہ میں خدا ہوں۔جب اس کے بیوی بچے بیمار ہوں اس کے دل میں ایک آگ لگی ہوئی ہوتی ہے وہ چاہتا ہے کہ میں چیخوں اور چلاؤں۔مگر شر مندہ ہوتا ہے کہ کس طرح ایسا کروں جبکہ میں خدائی کا یا خدا کا مثیل ہونے کا مدعی ہوں جبکہ وہ سمیع،