خطبات محمود (جلد 22) — Page 228
1941 229 خطبات محمود۔ہماری جماعت کی تو ساری عظمت ہے ہی اسی بات میں کہ وہ محمد صلی علیکم اور آپ کے صحابہ کی نقل کرے۔پس جب صحابہ سے رسول کریم صلی الم نے یہ معاملہ فرمایا کہ ان سے کئی موقعوں پر مشورہ لیا اور بعض دفعہ ان کا مشورہ اپنے منشاء کے خلاف ہونے کے باوجود قبول کر لیا تو کیا وجہ ہے کہ میں اپنی جماعت سے مشورہ نہ لیا کروں۔حقیقت یہ ہے کہ اس کے بغیر جماعتوں کے دماغ مردہ ہو جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ خدا نے نبوت کے وقت بھی مشورہ ضروری قرار دیا اور خلافت کے وقت بھی مشورہ ضروری قرار دیا۔اگر نبوت کے زمانہ میں لوگ اسی طرح کرتے چلے جائیں جس طرح نبی کہے اور اس کی وفات کے بعد جس طرح خلیفہ کہے اسی طرح کرتے چلے جائیں اور ذاتی غور اور فکر سے کام نہ لیں تو ان کے دماغ تھوڑے ہی عرصہ میں بالکل بیکار ہو جائیں اور ان کی ذہنی قوتوں کا نشو و نما بالکل رک جائے۔اسی لئے نبوت اور خلافت دونوں حالتوں میں مشورہ ضروری قرار دیا گیا ہے۔ہاں نبی اور خلیفہ کو خدا تعالیٰ نے یہ اختیار بھی دیا ہے کہ جب وہ دیکھیں کہ کوئی بات ایسی پیش کی جا رہی ہے جو صریح طور پر دین کے خلاف ہے تو اسے رڈ کر دیں اور ان مشوروں پر عمل کریں جو مفید ہوں۔غرض ایک واجب الاطاعت امام اور خلیفہ مان لینے ہرگز مطلب نہیں ہوتا کہ جماعت اہم امور کے متعلق مشورہ نہ کیا کرے خلیفہ اہم امور میں ان سے مشورہ نہ لیا کرے۔مشورہ ایک نہایت ضروری چیز ہے اور اس سے قوم کے اندر تفقہ کا مادہ بڑھتا اور ذہنی قوتوں سے کام لینے اور سوچنے اور غور کرنے کی عادت پیدا ہونے کی وجہ سے اس کا دماغ ترقی کرتا ہے اور یہی فرق ہے ایک ڈکٹیٹر اور نبی میں یا ڈکٹیٹر اور ایک خلیفہ میں۔ڈکٹیٹر لوگوں کے ذہنوں کو مارنا چاہتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کے نبی اور اس کے خلفاء لوگوں کے ذہنوں کو تیز کرنا چاہتے ہیں اور باوجود اس کے کہ وہ حکم دے سکتے ہیں کہ ایسا کرو اور ایسا نہ کرو وہ اس طرح حکم نہیں دیتے بلکہ ان سے مشورہ لینے کے بعد کام کرتے ہیں تاکہ ان کی دماغی قوتیں مُردہ نہ ہو جائیں اور جماعت میں غور اور فکر کرنے کی عادت