خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 207

1941 208 خطبات محمود بہت سے بچا لئے جاتے ہیں مگر وہ امید نہیں چھوڑتے۔پھر کتنے افسوس کا مقام ہو گا اگر ہم جو زندہ قوم ہیں امید چھوڑ دیں۔پس بہت گریہ و زاری کرو۔سمجھو کہ ہم آرام سے ہیں۔ایک زمیندار جو اپنی زمین میں ہل چلاتا ہے یہ مت سمجھے کہ مجھ تک کون پہنچ سکتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ یہ ہل ہی میری دنیا ہے باقی دنیا سے مجھے کیا سروکار۔بموں نے اب دور و نزدیک کا سوال ہی نہیں رہنے دیا۔کیا پتہ کہ کل اس کا ہل سلامت رہ سکے یا نہ اور کون کہہ سکتا ہے کہ کل اس کے ماں باپ اور بیوی بچے اس کی آنکھوں کے سامنے زخمی نہ پڑے ہوں گے۔پس دعائیں کرو، دعائیں کرو اور دعائیں کرو اور جنگ کی خبروں کو ہنسی سے نہ پڑھو۔بلکہ اگر کوئی اس طرح پڑھے تو اسے کہو کہ تو کیا سنگدل اور غافل ہے۔خود بھی دعائیں کرو اور اسے بھی تحریک کرو اور اتنی دعائیں کرو کہ عرش الہی ہل جائے اور خدا تعالیٰ کا فضل دنیا کو بھی اور ہمیں بھی بچا لے۔بے شک یہ عبرت کے سامان ہیں جن سے لوگوں کو ہدایت ہو سکتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ چاہے تو وہ دنیا کو تباہ کئے بغیر بھی ہدایت دے سکتا ہے۔پس آج میں یہ باتیں واضح طور پر بیان کر کے اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوتا ہوں۔گو اس کا یہ مطلب نہیں کہ پھر کبھی نہ کہوں گا مگر آج میں نے وضاحت سے بتا دیا ہے کہ یہ دن بہت گھبراہٹ اور خطرہ کے دن ہیں ان کو رو رو کر گزارو اور ایسا اضطراب تمہارے اندر ہونا چاہئے کہ کھانا کھانا مشکل ہو جائے اور پانی حلق میں پھنسے اور نیندیں حرام ہو جائیں اور تم سے ایسا اضطرار ظاہر ہو کہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کر دے کہ اس مومن کے اضطرار نے میرے عرش کو ہلا دیا ہے اور وہ اپنے عرش کو تسکین دینے اور ٹھہرانے کے لئے دنیا پر رحم فرمائے۔" خطبہ ثانیہ میں فرمایا: “ یوں تو میرا ارادہ پہلے ہی اس مضمون پر بیان کرنے کا تھا مگر جب میں آ رہا تھا تو مجھے معلوم ہوا کہ ایک احمدی جو فوج میں ڈاکٹر تھا جہاز میں جا رہا تھا کہ تار پیڈو