خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 709 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 709

* 1941 709 خطبات محمود ایسے اچھے واعظ ہیں کیا آپ کو بھی کبھی کسی نے نصیحت کی ہے؟ انہوں نے کہا ہاں ایک نصیحت کا میرے دل پر بڑا اثر ہے اور وہ نصیحت بھی ایسی ہے جو ایک چھوٹے بچے نے مجھے کی۔اس نے حیران ہو کر کہا کہ کیا ایک چھوٹے بچے نے نصیحت کی تھی؟ انہوں نے کہا ہاں اس نے مجھے نصیحت کی اور ایسی کی کہ وہ مجھے آج تک نہیں بھولتی۔اس نے پوچھا کہ کیا نصیحت کی تھی؟ اس پر امام ابو حنیفہ نے کہا۔ایک روز سخت بارش ہو رہی تھی، میں باہر نکلا اور میں نے دیکھا کہ آٹھ دس برس کا ایک لڑکا گلی میں سے دوڑتا چلا جا رہا ہے۔اُس زمانہ میں چونکہ پکی سڑکیں نہیں ہوا کرتی تھیں اور کیچڑ ہو رہا تھا اس لئے امام ابو حنیفہ کہتے ہیں مجھے ڈر پیدا ہوا کہ کہیں وہ لڑکا گر نہ جائے۔چنانچہ میں نے اسے کہا میاں بچے ذرا سنبھل کر چلو ایسا نہ ہو کہ پھسل جاؤ اور تمہیں چوٹ لگے۔اس بچے نے میری طرف دیکھا اور کہا امام صاحب میری فکر نہ کیجئے آپ سنبھل کر چلیں۔میں اگر پھسلا تو صرف اپنی جان کو نقصان پہنچاؤں گا مگر آپ پھسلے تو سارے جہان کو نقصان پہنچائیں گے۔اب اس بچے کا ہمیں نام بھی معلوم نہیں مگر اس میں کیا شبہ ہے کہ امام ابو حنیفہ جہاں پھسلے اسی جگہ سارے حنفی پھسل گئے۔تو بچوں کے منہ سے بھی نصیحت کی باتیں سننے میں آ جاتی ہیں۔اس لئے جو شخص اس طرز پر بیٹھتا ہے وہ خدا کے لئے نہیں بیٹھتا بلکہ صرف اچھی تقریر سننے کے لئے بیٹھتا ہے۔خدا کے لئے وہی شخص بیٹھتا ہے جو اس خیال میں رہتا ہے کہ مجھے جہاں سے بھی اچھی چیز ملے گی میں لے لوں گا۔رسول کریم صلی علیم بھی فرماتے ہیں كَلِمَةُ الْحِكْمَةِ ضَالَّهُ الْمُؤْمِنِ أَخَذَهَا حَيْثُ وَجَدَهَا 4 یعنی حکمت کی بات مومن کی گمشدہ اونٹنی ہے وہ جہاں بھی اسے نظر آتی ہے اس کو پکڑ لیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ میری اپنی چیز ہے کسی اور کی نہیں۔تو مومن کو ہمیشہ دین کی باتیں سننے کی طرف توجہ رکھنی چاہئے۔یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ کون سنا رہا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انسانوں سے تعلقات بھی ہوتے ہیں مگر بہر حال وہ دوسرے نمبر پر ہوتے ہیں۔پہلا نمبر ہوتی