خطبات محمود (جلد 22) — Page 702
خطبات محمود 702 * 1941 انگلستان کا ایک مشہور تماشہ دکھانے والا شخص ہے اس کی ایک کتاب میں نے پڑھی اور میں نے اس میں ایک عجیب بات دیکھی۔وہ لکھتا ہے کہ بڑے بڑے آدمیوں کے سامنے خواہ وہ پروفیسر ہوں یا ڈاکٹر، انجینئر ہوں یا مصنف، ایڈیٹر ہوں یا سیاست دان کبھی تماشہ دکھاتے وقت مجھے گھبراہٹ نہیں ہوتی۔مگر جب بچوں کے سامنے میں تماشا دکھانے لگتا ہوں تو گھبرا جاتا ہوں اس لئے کہ وہ وہی بات ہیں جو واقع میں ہوتی ہے۔مگر انجینئر اور سیاستدان اور ایڈیٹر اور پروفیسر میری وہ سیدھی سادی بات کی عجیب و غریب توجیہات کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ بات معمولی ہتھکنڈے کی ہوتی ہے لیکن بچے کا خیال ادھر اُدھر جاتا ہی نہیں وہ فوراً اصل حقیقت کو پہچان لیتا ہے اور اس طرح بھانڈا پھوٹ جاتا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ بچے اپنی فطرت کو بھولے نہیں ہوتے۔بچے کو جب اس کی ماں کہتی ہے کہ میز اٹھاؤ تو اس بچے کی فطرت فوراً سمجھ جاتی ہے کہ ماں چاہتی ہے میں یہ کہوں کہ میز مجھ سے اٹھایا نہیں جاتا۔چنانچہ وہ میز پر ہاتھ رکھتے ہی کہہ دیتا ہے کہ اماں مجھ سے میز نہیں اٹھایا جاتا اور ماں دوڑ کر آتی اور میز کو اٹھا لیتی ہے۔مگر چونکہ بڑے آدمی اپنی فطرت کو بھول جاتے ہیں اس لئے خدا تعالیٰ کو اِيَّاكَ نَعْبُدُ کے بعد إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ بھی کہنا پڑا۔اگر انسانی فطرت گرد و پیش کے حالات کی وجہ سے مسخ نہ ہو چکی ہوتی اور وہ بالکل پاک ہوتی تو ايَّاكَ نَسْتَعِينُ کہنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔لوگ آپ ہی سمجھ جاتے کہ اللہ میاں نے عبادت کا حکم ہمیں کیوں دیا ہے مگر چونکہ انسان عادات کی خرابی کی وجہ سے، نفسانی خواہشات کی ملونی کی نفسانی خواہشات کی ملونی کی وجہ سے اور غلط علم پڑھنے کی وجہ سے اپنی فطرت کا اصل حسن کھو بیٹھتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ کو إِيَّاكَ نَعْبُدُ کے ساتھ إيَّاكَ نَسْتَعِين کہنے کی ضرورت پڑی۔جس طرح بچہ جب میز اٹھانے لگتا ہے تو کہتا ہے اماں مجھ سے میز نہیں اٹھایا جاتا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ لَه کر یہ ہدایت دی ہے کہ جب تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے لگو تو ساتھ ہی کہا کرو کہ إيَّاكَ نَسْتَعِينُ اللہ میاں یہ عبادت ہم سے اٹھائی نہیں جاتی آپ ہماری مدد کریں تہ