خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 70

* 1941 70 خطبات محمود مستری محمد حسین صاحب بٹالہ کے رہنے والے نے (جو کہا جاتا ہے کہ محمد علی خان صاحب احمدی مرحوم جو پشاور کی طرف کے رہنے والے تھے۔ان کے ہاتھ سے مارے گئے تھے ( مستری عبد الکریم صاحب کی ضمانت دی تھی۔میاں محمد صادق صاحب کا اعتراض یہ ہے کہ اس سے پہلے میں بعض خطبات میں یہ بیان کر چکا تھا که مستری محمد حسین صاحب نے مستری عبد الکریم صاحب کی ضمانت دی اور چونکہ میں یہ بیان کر چکا ہوا تھا اس لئے عدالت میں میرا یہ کہنا کہ مجھے علم نہیں ہے خلاف واقعہ بات تھی۔میں اختصار ا پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ عدالتی علم اور عام سوسائٹی کا علم دونوں میں فرق ہوتا ہے۔عدالت میں علم کے اور معنے ہیں اور سوسائٹی میں علم کے اور معنے لئے جاتے ہیں۔مثلاً کوئی شخص یہ خبر مشہور کرتا ہے کہ زید فوت ہو گیا۔بکر خالد سے آکر پوچھتا ہے کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ زید فوت ہو گیا ہے؟ اگر تو خبر دینے والا ان لوگوں کے نزدیک قابل اعتبار آدمی تو وہ کہے گا کہ ہاں بہت افسوس ہے مجھے بھی معلوم ہو چکا ہے کہ وہ فوت چکا ہے۔یہاں علم کے معنے صرف یہ ہیں کہ میں نے ایک یا ایک سے زیادہ لوگوں سے جو بظاہر قابل اعتبار ہیں یہ بات سنی ہے لیکن اگر عدالت میں متوفی کی جائداد کے متعلق کوئی دعویٰ چل رہا ہو اور بکر یا خالد کو کوئی کہے کہ چل کر گواہی دے دو کہ زید شخص فوت ہو چکا ہے تو وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں علم ہے کہ وہ فوت ہو چکا ہے کیونکہ عدالتہ وہ یہ اسی صورت میں کہہ سکتے ہیں جب وہ ان کے سامنے فوت ہوا ہو یا انہوں نے اس کی لاش کو دیکھا ہو۔یہ کہنا کہ میں نے فلاں سے سنا ہے تھا کہ وہ فوت ہو چکا ہے عدالت کے نزدیک علم نہیں کہلا سکتا۔گو عرفِ عام میں کہلاتا ہے۔عام دستور سوسائٹی کا یہی ہے کہ جب ہم دو چار معتبر آدمیوں سے کوئی بات جو راز کی قسم کی نہیں ہوتی سنتے ہیں تو اسے درست مان لیتے ہیں۔مستری محمد حسین صاحب کا ضمانت دینا ایک عدالتی فعل تھا اور میں اس عدالت میں موجود نہیں تھا۔بہر حال میں نے یہ بات سنی ہو گی کہ اس شخص نے مستری عبد الکریم کی