خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 695 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 695

* 1941 695 خطبات محمود نیت نہیں ہوتی۔اگر چلنے سے پیشتر یہ نیت کر لیتے کہ خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے کے لئے جا رہے ہیں تو وہ یہاں آکر اس طرح وقت کو ضائع نہ کرتے۔نیت نہ ہونے کی وجہ سے ان کا ذہن اس طرف نہیں جاتا کہ وہ وقت ضائع کر رہے ہیں اور خود اپنے کام کو خراب کر رہے ہیں۔اگر چلنے سے پیشتر وہ نیت کو درست کر لیتے تو یہاں آکر اپنے کام کی طرف ان کی توجہ بھی ضرور ہوتی۔پس اول تو میں باہر کے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ جو دوست جلسہ آنے والے ہیں وہ اپنی نیت کو درست کریں اور دوسرے قادیان کے جن لوگوں کو خدمت کے مواقع ملتے ہیں۔اُن کو بھی چاہئے کہ اپنی نیتوں کو درست کریں۔ان کی خدمت میں ریاء اور دکھاوے کا کوئی پہلو نہ ہونا چاہئے۔کئی لوگ اس وجہ سے مکان دے دیتے ہیں کہ دوسرے لوگ کہیں گے فلاں شخص نے اپنا مکان خالی کر دیا لیکن اگر کوئی شخص اپنے دل میں کہتا ہے کہ میرا مکان خدا تعالیٰ کا ہی دیا ہوا ہے۔سال کے تین سو ساٹھ دن میں نے خود اس سے فائدہ اٹھایا ہے اب پانچ دن اللہ تعالیٰ کے لئے دیتا ہوں تو اس نیت کے ساتھ وہ مکان کتنی برکت کا موجب ہو جائے گا۔لوگ دور دور سے حج کے لئے جاتے ہیں۔حج بیت اللہ کا کیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کا گھر ہے۔پھر لوگ نمازیں مساجد میں پڑھتے ہیں وہ بھی اللہ کا گھر کہلاتی ہیں۔لیکن اگر اپنے گھر کو کوئی اللہ تعالیٰ کا گھر بنا سکے تو اسے کس طرح برکتیں ملتی رہیں گی۔خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت گو اسے مسجد میں بھی جانا پڑے گا کیونکہ مساجد اسی لئے بنائی گئی ہیں کہ مسلمان ان میں جمع ہوں اور اس کے گھر میں مسلمان جمع نہیں ہو سکتے۔لیکن اس کے باوجود اگر وہ اپنے گھر کو خدا تعالیٰ کا گھر بنا دے تو وہ بھی اس کے لئے بہت سی برکتوں کا موجب ہو جائے گا۔خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایک نبی کی مثال بیان فرمائی ہے کہ اس نے ایک اونٹنی کو چھوڑ دیا اور کہا کہ یہ نَاقَةُ اللهِ ہے کوئی کچھ نہ کہے۔4 کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ باقی اونٹنیاں خدا تعالیٰ کی نہ تھیں؟ باقی بھی اُسی کی ناقة ہیں۔لیکن ان کے لئے وہ خود فرماتا ہے کہ ان کو ذبح