خطبات محمود (جلد 22) — Page 680
خطبات محمود 680 * 1941 کیا تھا ورنہ میرے متعلق اگر وہ کوئی بات کہتی تو میں اس کی پرواہ بھی نہ کرتا۔مولوی محمد علی صاحب نے بھی حال ہی میں جماعت احمدیہ پر ایسا ہی حملہ کیا ہے۔چنانچہ انہوں نے قادیان کی جماعت کے متعلق جو دس ہزار کے قریب ہے کہا ہے کہ قادیان کے رہنے والے تو منافق ہیں۔جماعت کے اصل لوگ وہ ہیں جو باہر رہتے ہیں قادیان کے رہنے والے تو تمہارے لڑ لگے ہوئے اور ممنونِ احسان ہیں، وہ تمہیں چھوڑ نہیں سکتے۔مولوی صاحب کے الفاظ جو “الفضل ” نے نقل کئے ہیں ہیں: “ ان کی جماعت وہ تو نہیں جو قادیان میں ہے۔وہ تو ان کے ملازمین اور ایسے لوگ ہیں جن کی ضروریات ان سے وابستہ ہیں۔جماعت تو وہ چیز ہے جو اس سلسلہ کو قائم رکھنے والی ہے۔بیرونی لوگ جو جلسہ پر آئے ہیں اصلی جماعت وہ ہیں۔” الفضل ” نے اس کا نہایت ہی معقول جواب دیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو قادیان میں رہنے کی تعلیم دی ہے اور آپ نے فرمایا ہے کہ جو شخص سب کچھ چھوڑ کر اس جگہ آکر آباد نہیں ہوتا یا کم سے کم یہ تمنا دل میں نہیں رکھتا وہ منافق ہے۔اور مولوی محمد علی صاحب کے نزدیک جو لوگ قادیان میں آبسے ہیں وہ منافق ہیں۔گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے جتنی باتیں بیان فرمائی تھیں۔غیر مبائعین کے نزدیک وہ سب بدلتی جاتی ہیں۔نبوت کے مسئلہ میں انہوں نے تبدیلی کی کفر و اسلام کے مسئلہ میں انہوں نے تبدیلی کی، خلافت کے مسئلہ میں انہوں نے تبدیلی کی اور اب قادیان کی رہائش کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جو ارشادات ہیں ان کی انہوں نے بے قدری کرنی شروع کر دی ہے۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قادیان کی محبت اتنی ضروری قرار دی ہے کہ آپ فرماتے ہیں جو شخص قادیان میں آ نہیں سکتا اُسے کم سے کم یہاں آنے کی خواہش اور تمنا اپنے دل میں ضرور رکھنی چاہئے۔مگر مولوی محمد علی صاحب کے نزدیک قادیان میں آنا منافقت میں مبتلا ہونا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے نعوذ باللہ اپنی جماعت کے لوگوں کو منافق بننے کا یہ گر بتایا تھا اور بجائے اس