خطبات محمود (جلد 22) — Page 650
خطبات محمود 650 * 1941 آپ کیا کہتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے شیر پر بھی کوئی ہاتھ ڈال سکتا ہے؟ تو مومن کو مشکلات تو آتی ہیں مگر یہ مشکلات ایسی نہیں ہوتیں کہ اسے تباہ کر دیں۔بڑی مشکل وہ ہوتی ہے جو انسان کو تباہ کر دے ورنہ دنیا میں مشکلات آتی ہی ہیں۔زمیندار کو دیکھو سخت سردی میں ہل چلاتا ہے، کھیتوں کو پانی لگاتا ہے مگر وہ اسے مشکل نہیں سمجھتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے بدلہ میں اسے فائدہ ہو گا۔مشکل انسان اسے سمجھتا ہے جس کے بدلہ میں وہ سمجھے کہ اس پر تباہی آ جائے گی۔عورت کو دیکھو اپنے بچہ کو وہ کس طرح پالتی ہے، کتنی مصیبتیں اس کے لئے جھیلتی ہے مگر ایک بچہ ابھی اس کی گود سے اترتا نہیں کہ دعائیں کرنے لگ جاتی ہے کہ خدا پھر میری گود ہری کرے اور اس کی اس دعا کے یہی معنے ہوتے ہیں کہ خدایا میں پھر پیشاب سے بھیگوں، پھر میرا خون چوسنے والا کوئی پیدا ہو۔اسی طرح اگر باپ ایسی دعا کرے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ ایک اور روٹی کھانے والا پیدا ہو جائے، ایک اور کمرہ سنبھالنے والا ہو، ایک اور تعلیم پر خرچ کرانے ولا ہو، ایک اور رو رو کر اس کے آرام میں خلل ڈالنے والا ہو۔تو ماں باپ کے لئے اولاد کا ہونا بظاہر تکلیف کا موجب ہوتا ہے مگر کیا ان مشکلات کو کوئی مشکل کہتا ہے۔اگر کوئی اسے مشکل کہے تو ہر شخص کہے گا کہ اس بیچارے کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔تو ان باتوں کا نام مشکل نہیں۔مشکل اسے کہتے ہیں جس کے نتیجہ میں انسان کو تباہی کا ڈر ہو۔جس کے بدلہ میں انعام ملنے والا ہو اُسے کوئی مشکل نہیں کہتا اور اسے مشکل کہنے والے کو کوئی باہوش انسان نہیں سمجھتا۔غرض میری بات سے یہ دھوکا نہ کھاؤ کہ کوئی مشکل آئے گی ہی نہیں۔ایسا نہ ہو کہ چند روز دعائیں کرو اور پھر کہو کہ جی دیکھ لیا بڑے خطبے پڑھتے تھے کہ مشکلات دور ہو جائیں گی مگر وہ بدستور ہیں۔بعض لوگ چند دن نمازیں پڑھ لیں تو کہنے لگ جاتے ہیں بہت نمازیں پڑھیں، بڑے روزے رکھے مگر ملا ملایا کچھ بھی نہیں دراصل “ کچھ ” کے معنے ان کے نزدیک اور ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک کچھ اور۔