خطبات محمود (جلد 22) — Page 65
*1941 65 خطبات محمود ور نہ کوئی اصل مذہب یہ نہیں سکھاتا۔میں ایک منٹ کے لئے یہ نہیں مان سکتا کہ کرشن، رامچندر اور بدھ جیسے خدا رسیدہ لوگ ایسے لغو خیالات میں مبتلا تھے۔ان کے سامنے تو بہت بڑا کام یعنی دنیا کی اصلاح تھا وہ ان باتوں کی طرف دھیان ہی کیسے دے سکتے تھے ؟ انہوں نے دنیا کی اخلاقی، دماغی اور سیاسی اصلاح کرنی تھی اور آئندہ نسلوں کی بھی اصلاح کا کام ان کے سپرد تھا۔اور ظاہر ہے کہ اس قدر بڑے کام سے ایک منٹ کی بھی فراغت نہیں ہو سکتی کہ ایسے لغو خیالات کی طرف توجہ کی جا سکے۔انبیاء کے زمانہ میں یہ خیالات پیدا نہیں ہوتے بلکہ بعد میں جب ترقیات حاصل جاتی ہیں تو یہ سلسلہ شروع ہوتا ہے۔تیز طبیعت لوگ پامال رستہ کو پسند نہیں کرتے اگر اس رستہ پر چلتے جائیں تو انہیں رام چندر یا کرشن کا شاگرد ہی کہا جائے گا لیکن اگر پتنجلی کا یوگ شاستر بن جائے تو اس آزادی علم کی وجہ سے لوگ مصنف کی تعریف کریں گے اور اس کی خوب شہرت ہو گی۔پس اس جھوٹی شہرت اور عزت کی خاطر لوگ ایسے رستے تجویز کرتے، خود ٹھوکر کھاتے، گمراہ ہوتے اور دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں۔ایسے ہی لوگوں کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ قَدْ ضَلُّوا مِنْ قَبْلُ وَأَضَلُّوا - 2 یہی حال سامی مذاہب میں ہمیں نظر آتا ہے۔حضرت موسیٰ ایک سیدھی سادی تعلیم لائے تھے مگر بعد میں یہودیوں نے اس میں عجیب الجھنیں پیدا کر دیں۔پھر حضرت عیسی آئے اور انہوں نے کہا کہ اصلی تعلیم تو وہی ہے جو موسیٰ لائے تھے۔صرف زمانہ کے حالات کا تقاضا ہے کہ نرمی سے کام لیا جائے اور باطنی صفائی کی طرف توجہ زیادہ دی جائے۔مگر دیکھو نکالنے والوں نے اس میں بھی کیا کیا باتیں نکالیں۔کسی نے ان کو خدا بنا دیا او رکسی نے خدا کا بیٹا۔پھر اقانیم ثلاثہ کا گورکھ دھندا گھڑ لیا گیا۔جسے نہ گھڑنے والے خود سمجھیں او رنہ کوئی اور سمجھ سکے۔مسلمانوں کو آنحضرت صلی ل ل ل ا ل م نے جو تعلیم دی تھی اس کے مطابق وہ سمجھتے تھے کہ ولیم ہمارا کام دنیا کی اصلاح کرنا ہے۔اس لئے وہ ان باتوں کی طرف توجہ ہی نہ کر سکتے تھے۔کیونکہ اتنا بڑا کام جس کے ذمہ ہو اسے ایسی باتوں کے لئے وقت ہی کہاں مل