خطبات محمود (جلد 22) — Page 638
* 1941 638 خطبات محمود صرف تین چار آنے خدا تعالیٰ کو دیتا اور پھر اس کا نام قربانی رکھتا ہے۔حالانکہ ادنیٰ سے ادنی کاموں پر بھی اگر کوئی شخص تین چار آنے خرچ کر دے تو وہ اسے قربانی نہیں کہتا۔عام انسانی ضروریات پر ہی ہر شخص اس سے بہت زیادہ خرچ کر دیا کرتا ہے۔اسی طرح صدقہ و خیرات کے طور پر انسان ماہوار اس سے زیادہ خرچ کر دیتا ہے۔مگر کبھی اس کا نام قربانی نہیں رکھتا۔کجا یہ کہ وہ عظیم الشان قربانی جس سے اشاعت دین کے لئے ایک مستقل بنیاد رکھی جانے والی ہے۔اس میں ایک شخص سو یا ڈیڑھ سو روپیہ ماہوار آمد رکھتے ہوئے اتنا قلیل حصہ لے اور پھر یہ خیال کرے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور سابقون میں شمار کیا جائے گا ایسے لوگوں میں بالعموم وہ ہیں جو بعد میں شامل ہوئے۔اگر وہ اس طرح نام کی قربانی کرنے کی بجائے یہ خیال کرتے کہ ہم بعد میں شامل ہوئے ہیں ہمیں زیادہ زور دینا چاہئے تاکہ پہلوں کے برابر ہو سکیں۔تو یہ ان کے لئے اچھا ہوتا۔بے شک اکٹھا چندہ دینا ان کے لئے مشکل ا تھا۔مگر وہ یہ کر سکتے تھے کہ اپنے گزشتہ چندہ کو اگلے سالوں میں پھیلا کر ادا کرتے اور اگر پھر بھی بوجھ ان کی طاقت سے بالا ہوتا تو تحریک کے سالوں کے بعد ایک و سال میں اسے ادا کر دیتے کیونکہ آخر وہ بعد میں شامل ہوئے تھے اور یہ حق ان کو مل سکتا تھا کہ گزشتہ چندہ کو بعد کے سالوں میں پھیلا دیتے۔بہر حال قربانی وہی کہلا سکتی ہے جو واقع میں قربانی ہو۔اب جبکہ صرف تین سال تحریک جدید کے رہ گئے ہیں۔میں ایسے لوگوں کو بھی ان کی غلطی کی اصلاح کی طرف توجہ دلاتا ہوں اور انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اب بھی اپنے چندوں کو درست کر لیں جس کی سکتی ہے کہ وہ گزشتہ چندے آئندہ سالوں میں پھیلا کر ادا کر دیں۔تحریک جدید کی میعاد کے اختتام پر ان کے ذمہ جو بقایا رہ جائے گا اسے وہ بعد کے دو تین سالوں میں ادا کر سکتے ہیں۔بہر حال انہیں اپنی اصلاح کرنی چاہئے اور اس غلطی کی تلافی کی کوشش کرنی چاہئے۔میں ان کو بھی توجہ دلاتا ہوں جو اب تک اس تحریک میں شامل نہیں ہوئے رو ہو