خطبات محمود (جلد 22) — Page 63
$1941 خطبات محمود 63 کوئی اثر نہیں ہوتا۔اور اگر غور سے دیکھا جائے تو تناسخ ماننے والوں کے عقیدہ کے مطابق خدا اور بننے میں کوئی فرق نہیں۔بلکہ ایک لحاظ سے بنیا زیادہ نیکی کرتا ہے کیونکہ خواہ وہ دھوکا سے ہی سہی وہ چند سال تو اپنے مقروض کے اطمینان سے گزرنے دیتا ہے۔جب اسے کہہ دیتا ہے کہ تمہارا حساب اب صاف ہو گیا۔مگر جس پر میشور کو یہ مذہب پیش کرتا ہے وہ تو کبھی دھوکا سے بھی نہیں کہتا کہ اب تمہارے گناہوں کا حساب صاف ہو چکا ہے۔تو ان فلسفیوں نے اتنا ظلم مخلوق پر کیا ہے کہ جس کی کوئی نہیں۔دنیا میں ایک انسان کے مارنے والے کو پھانسی کی سزا دی جاتی ہے اور ان نالائقوں نے کروڑوں کروڑ آدمی مار ڈالے ہیں اور پھر ان کو ایک ہی دفعہ نہیں مارا بلکہ گند چھریوں سے ذبح کیا ہے۔کسی کو اسی سال میں، کسی کو ساٹھ اور کسی کو پچاس اور کسی کو چالیس سال میں ذبح کیا ہے۔صرف اور صرف وہی ہیں جو ان تمام لوگوں کی گھبراہٹ اور اطمینان قلب چھیننے کا موجب ہوئے ہیں۔کیا عجیب بات ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ معلوم نہیں کون سے جنم کی سزا مل رہی ہے۔یہ غور نہیں کرتے حد شخص کہ یہی اعمال ہیں جو ہمارے سامنے آ رہے ہیں۔کیا ہم دیکھتے نہیں کہ آج ایک زیادہ مرچیں کھاتا ہے اور کل اسے پیچش ہو جاتی ہے۔آج ہی پانی پیتا تو پیاس بجھتی اور روٹی کھاتا ہے تو پیٹ بھرتا ہے۔یہ سب اسی زندگی کے اعمال کے نتائج ہیں۔سب اعمال کی وجوہ اور نتائج یہیں نظر آتی ہیں۔ہاں اگر دوچار کی وجوہ کو ہم نہیں سمجھ سکے تو باقی پر ان کا قیاس بھی کیا جا سکتا ہے جو باقی کی تشریح ہے وہی ان کی سمجھ لینی چاہئے۔اگر زندگی میں انسان کو گزشتہ اعمال کا ہی نتیجہ ملتا ہے تو چاہئے کہ وہ شادی نہ بھی کرے پچھلے جنم کے کسی عمل کے نتیجہ میں اگر اس کے ہاں بچے ہونے ہیں تو ہو جائیں۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ انسان شادی کرے تب ہی بچہ پیدا ہوتا ہے، پانی ہے تو پیاس بجھتی ہے، روٹی کھاتا ہے تو پیٹ بھرتا ہے۔یہ سب اعمال کے نتائج ہیں جو ساتھ ساتھ ظاہر ہوتے ہیں اور طبعی قانون کے نتائج ہیں۔مثلاً کوئی شخص آگ کے پاس بیٹھے تو اس کے کپڑے گرم ہو جائیں گے۔اسی طرح اگر ماں باپ کی