خطبات محمود (جلد 22) — Page 623
* 1941 623 خطبات محمود ترقی کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں اور انسان کی معمولی کوشش کے نتائج بھی بہت شاندار نکلتے ہیں۔گویا اس دور سے فائدہ اٹھانے والوں کی مثال ایسی ہی ہوتی جیسے کوئی ریل میں سفر کر رہا ہو۔اور دوسرے دور والوں کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے کسی نے بوجھ اٹھایا ہوا ہو اور پیدل سفر کر رہا ہو۔پھر جس شخص کے لئے خد اتعالیٰ نے ریل میں سفر کرنے کے سامان مہیا کر دیئے ہوں وہ اگر اس میں سفر کرنے سے کوتاہی کرے تو اس سے زیادہ بد بخت اور کون ہو سکتا ہے۔یہ دور جس میں بندوں کا ارادہ خدا تعالیٰ کے ارادہ کے ساتھ مل جاتا ہے اور خدا تعالیٰ خود چاہتا ہے کہ دنیا کو ترقی عطا کرے۔انبیاء علیہم السلام کا دور ہوتا ہے جب خدا تعالیٰ کے انبیاء آتے ہیں اس وقت خدا تعالیٰ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ وہ دنیا کو بڑھائے گا اور اسے روحانیت میں ترقی عطا کرے گا۔پس ایسے وقت میں تھوڑی سی جد وجہد اور تھوڑی سی کوشش بھی انسان کو کہیں کا کہیں پہنچا دیتی ہے اور ذرا سی محنت کے نتیجہ میں بڑے بڑے شاندار نتائج پیدا ہو جاتے ہیں۔چنانچہ دیکھ لو۔آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے بعض صوفیاء کہلانے والے بڑے بڑے مجاہدات کیا کرتے تھے۔راتوں کو جاگتے، دنوں کو عبادتیں کرتے اور بڑی بڑی چلہ کشیاں کرتے مگر ان تمام ریاضتوں، تمام عبادتوں اور تمام کوششوں کے باوجود خالی ہاتھ رہتے اور خدا تعالیٰ کے الہام سے مشرف نہیں ہوتے تھے۔مگر اب یہ ہے کہ اگر کوئی احمدی دو نفل بھی زیادہ پڑھ لے تو اس پر الہام نازل ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔یہ کتنا بڑا فرق ہے جو دکھائی دیتا ہے۔ایک طرف تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی عمریں عبادت اور مجاہدات میں صرف کر دیں مگر وہ الہام سے محروم رہے اور دوسری طرف احمدی ہیں کہ وہ چند نفل پڑھ کر ہی الہام سے مشرف ہو جاتے ہیں۔یہ امتیاز اور تفاوت اسی وجہ سے ہے کہ اس وقت خدا بھی دنیا کو اپنی طرف لانا چاہتا ہے اور اُس کا منشاء ہے کہ دنیا میں روحانی حکومت قائم کی جائے۔پس پہلے زمانہ کے لوگوں کی مثال ایسی تھی جیسے کوئی بوجھ اٹھا کر آسمان کی طرف حالت