خطبات محمود (جلد 22) — Page 621
خطبات محمود 621 : * 1941 جائیں۔حالانکہ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی مکھی مار کر دنیا کی فتح کا دعوی کرے۔بے شک یہ بھی ایک اچھی چیز ہے اور مکھی جسم پر جب بیٹھتی ہے اور اس سے جو ناگواری پیدا ہوتی ہے وہ اس کے نتیجہ میں دور ہو سکتی ہے۔مگر چند مکھیاں مارنے سے دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا اور نہ چند مکھیاں مار کر دنیا کو فتح کیا جا سکتا ہے۔اسی طرح صدقہ و خیرات سے مردہ ماں باپ کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے، صدقہ و خیرات سے مردہ بیوی کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے، صدقہ و خیرات سے مردہ خاوند کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے، صدقہ و خیرات سے مردہ اولاد کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے مگر جو چیز مرنے والے کو جنت کے بلند مقامات تک پہنچا سکتی ہے وہ یہی ہے کہ اولاد اپنے اولاد اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا زیادہ مقرب بنائے تاکہ جس مقام پر اسے رکھا جائے اسی مقام پر اس کے ماں باپ کو بھی لا کر رکھ دیا جائے۔اسی طرح بیوی اپنے آپ کو زیادہ نیک بنائے تاکہ جس مقام پر اسے رکھا جائے اسی مقام پر اس کے خاوند کو بھی لا کر رکھ دیا جائے۔خاوند اپنے آپ کو زیادہ نیک بنائے تاکہ جس اعلیٰ مقام پر وہ پہنچے اسی تقام پر اس کی بیوی کو بھی خدا تعالیٰ لا کر رکھ دے۔اگر اس رنگ میں ترقی کی جائے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کو حاصل کیا جائے تو جو اعلیٰ مقام کسی انسان کو حاصل ہو گا اسی مقام پر اس کے والدین اور بیوی بچوں اور دوسرے رشتہ داروں کو بھی خدا تعالیٰ پہنچا دے گا۔بشر طیکہ ان میں ایمان ہو اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کیا ہوا ہو۔یہ گر ہے جو خدا تعالیٰ نے مردہ ماں باپ اور دوسرے رشتہ داروں کو فائدہ پہنچانے کے لئے قرآن کریم میں بیان کیا ہوا ہے۔جب تک کوئی اس کی طرف توجہ نہیں کرتا اُس وقت تک اُس کا دوسرے طریقوں سے کام لینا ایسا ہی ہوتا قید خانہ میں کسی قیدی کو ان دنوں میں جبکہ گورنمنٹ کی طرف سے اجازت ہوتی ہے جیسے ہے تھوڑی سی مٹھائی پہنچا دی جائے۔اس مٹھائی کے کھانے سے اسے وقتی طور پر تو راحت حاصل ہو جائے گی مگر پوری راحت حاصل نہیں ہو گی۔پوری راحت اسے