خطبات محمود (جلد 22) — Page 616
* 1941 616 خطبات محمود آنحضرت صلی الم کی تھی۔لیکن باوجود اس کے کہ مسلمانوں کے سامنے یہ مقصدِ عالی رکھا گیا تھا اور انہیں مجبور کیا گیا تھا کہ وہ پانچ وقت یہ دعا کریں پھر بھی ان کے دلوں میں اپنی اور بنی نوع انسان کی روحانی ترقی کے لئے کوئی تڑپ نہیں پائی جاتی۔اور یہی وجہ ان کے روحانی تنزیل کی ہے۔بھلا سوچو اگر تم کوئی رڈی قسم کا نہایت پرانا اور گلا سڑا گندم کا بیج زمین میں بو دو اور دعا یہ کرنے لگ جاؤ کہ یا اللہ ! آٹھ الف گندم پیدا ہو جائے۔یا اللہ ! 591 پیدا ہو جائے۔یا اللہ 518 پیدا ہو جائے تو کیا اس دعا کے نتیجہ میں تمہیں اعلیٰ قسم کی گندم مل سکے گی یا تمہارے پاس تو پرانی قسم کے ٹینی مرغے ہوں اور تم دعا یہ کرو کہ یا اللہ! ان سے لیگ ہارن ( Leg horn پیدا ہو جائیں۔یا اللہ! ان سے وائیٹ سیکس (White Sussex) پیدا ہو جائیں۔یا اللہ ! ان سے منارک (Monarch) پیدا ہو جائیں۔یا اللہ ان سے (Rhodes Island) رھوڈز آئی لینڈ پیدا ہو جائیں۔تو کیا تمہاری یہ دعا قبول ہو جائے گی؟ اسی طرح اگر تم دیسی کپاس بو کر بیٹھ جاؤ اور دعا کرنے لگ جاؤ کہ یا اللہ اس سے امریکن کپاس نکل آئے تو کبھی امریکن کپاس پیدا نہیں ہو گی۔یا اگر تم چھوٹے چھوٹے تخمی آموں کو بو کر یہ دعا کرنے لگ جاؤ کہ یا اللہ لنگڑے نکل آئیں۔یا اللہ فجری اور دوسیری نکل آئیں۔تو کیا تم سمجھتے ہو کہ اس دعا کے نتیجہ میں تخمی آموں سے لنگڑے اور فجری اور دوسیری نکل آئیں گے؟ یہ دعا تو اسی وقت کام آئے گی جب تم لنگڑے کا پیوند لگاؤ گے یا امریکن کپاس بوؤ گے یا اعلیٰ قسم کے رنے رکھو گے یا عمدہ قسم کی گندم کا بیج بوؤ گے۔کیونکہ دعا عمل کے ساتھ شروع ہوتی ہے۔عمل کے بغیر دعا قبول نہیں ہوتی۔پس جب خدا تعالیٰ نے تمہیں یہ دعا سکھا کر کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یہ کہا تھا کہ تم نوح بننے کی کوشش کرو، تم ابراہیم بننے کی کوشش کرو، تم موسی اور عیسی بننے کی کوشش کرو۔تو اس کے صاف معنے یہ تھے کہ