خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 614 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 614

* 1941 614 خطبات محمود پیٹ بھر کر مل جانا بے شک ایک اچھی بات ہے مگر اس سے بھی زیادہ ضروری ہے کہ روٹی کھانے والا اچھا ہو۔لیکن ہمارے ملک میں بیلوں کی طرف تو توجہ کی جاتی ہے، گھوڑوں کی طرف تو توجہ کی جاتی ہے، بکریوں کی طرف تو توجہ کی جاتی گندم کے بیچ اور اس کے دانوں کی طرف تو توجہ کی جاتی ہے لیکن اگر نہیں توجہ کی جاتی تو انسان کی طرف، حالانکہ بیل اور انسان میں کوئی نسبت ہی نہیں ہوتی۔ایک انسان کی صحت کی عمدگی اور گندم کے دانوں کی عمدگی میں کوئی نسبت ہی نہیں ہوتی۔کپاس کے اچھا ہونے اور انسان کے اچھا ہونے میں کوئی نسبت ہی نہیں ہوتی مگر لوگ ان چیزوں کو تو اچھا بنانے کی کوشش کرتے ہیں مگر جس کی خاطر خدا تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کو بنایا ہے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتے۔گھوڑے خدا نے کیوں بنائے ہیں اسی لئے کہ انسان کے کام آئیں۔بیل خدا نے کیوں بنائے ہیں اس لئے کہ انسان کے کام آئیں، گندم خدا نے کیوں بنائی ہے اسی لئے کہ انسان کے کام آئے، کپاس خدا نے کیوں بنائی ہے اسی لئے کہ انسان کے کام آئے۔مگر جس کی خاطر خدا تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کو بنایا ہے اس کی طرف تو کوئی توجہ نہیں کی جاتی وہ اور اور جو چیزیں انسان کی خادم ہیں ان کی طرف توجہ کی جاتی ہے۔حالانکہ جسمانی روحانی ترقی کے لئے خدا تعالیٰ نے غیر محدود راستے رکھے ہوئے ہیں۔جس طرح ایک انسان یہ خواہش کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے ٹھنگنے اور چھوٹے سے قد کے بیل کی بجائے ناگوری بیل دے جو میرے بیل سے کئی گنا زیادہ ہل چلا دے۔جس طرح چاہتا ہے کہ ایک ٹھنگنی اور چھوٹی سی گائے کی بجائے اللہ تعالیٰ مجھے ایسی گائے دے جو دس دس میں ہمیں سیر دودھ دینے والی ہو۔اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔ہمارے ملک میں ہی ایسی گائیں ہیں جو من من دودھ دیتی ہیں۔پھر جس طرح انسان خواہش کرتا ہے کہ ایک چھوٹی سی بھینس کی بجائے جو نہایت رڈی اور دبلی پتلی ہو اور دودھ تو صرف دو تین سیر دیتی ہو مگر کھاتی بہت ہو۔خد اتعالیٰ اسے ایسی بھینس دے جو دس پندرہ سیر دودھ دینے والی ہو اور جس سے دو سیر مکھن نکل آئے۔