خطبات محمود (جلد 22) — Page 605
* 1941 605 خطبات محمود صَابِرُوا کا وقت نہیں مگر رابطوا کا وقت ہے اور جب وہ اس طرح چوکس اور ہوشیار رہتی ہیں تو شیطان جس راہ سے بھی ان پر حملہ کرتا ہے اس راہ سے وہ ناکام و نامراد واپس لوٹتا ہے۔اس پر شیطان مایوس ہو کر ایک لمبے عرصہ کے لئے خاموش ہو جاتا ہے اور اس قوم پر کوئی حملہ نہیں کرتا مگر اس عرصہ میں وہ اپنے کام کو بھولا نہیں ہوتا بلکہ اس بات کا منتظر ہوتا ہے کہ کب قوم غافل ہو اور میں اس پر حملہ کروں۔چنانچہ پندرہ بیس سال انتظار کرنے کے بعد جب وہ خیال کرتا ہے کہ اب یہ قوم غافل ہو گئی ہو گی تو پھر اس پر حملہ کر دیتا ہے۔اس وقت بھی اگر قوم ہوشیار ہو اور ہ رابطوا پر عمل کر رہی ہو تو پھر وہ شیطان کو ایسی ضرب لگائے گی کہ وہ خاموش ہو کر بیٹھ جائے گا مگر چالیس پچاس سال کے بعد وہ پھر سر اٹھائے گا اور اگر کی دفعہ بھی قوم ہوشیار ہو گی تو پھر وہ ساٹھ ستر سال کے لئے خاموش ہو جائے گا اور ہر وقفہ اس کا پہلے وقفہ سے زیادہ لمبا ہو گا۔جیسے تم دیکھتے ہو کہ چور جب چوری کے لئے آئے اور وہ مالک مکان کو ہوشیار پائے تو پھر دوسرے ہی دن وہ چوری کرنے کے لئے نہیں آ جاتا بلکہ دو چار راتیں چھوڑ کر آتا ہے اور اگر اس دن بھی مالک مکان ہوشیار ہو تو وہ دو چار دن کا وقفہ نہیں ڈالتا بلکہ دو چار ہفتوں کا وقفہ ڈال دیتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ شاید اس وقفہ میں یہ غافل ہو جائے۔اس وقفہ کے بعد وہ پھر آتا ہے اور اگر اب بھی مالک مکان ہوشیار ہو تو وہ چار مہینے تک نہیں آتا لیکن دو چار ماہ گزرنے کے بعد وہ پھر آ جائے گا اور اگر پھر بھی وہ اسے ہوشیار ئے گا تو کئی سال کا وقفہ ڈال دے گا اور سمجھے گا کہ اب مجھے زیادہ عرصہ انتظار کرنا چاہئے تاکہ لمبے عرصہ کی وجہ سے یہ غافل ہو جائے اور مجھے اپنا کام کرنے کا موقع مل جائے۔وقفہ یہی حال شیطان کا ہے۔وہ ہمیشہ وقفہ ڈال ڈال کر حملہ کرتا ہے اور ہر وفـ اس کا پہلے وقفہ سے زیادہ لمبا ہوتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ قوم ہوشیار ہے مجھے لمبا وقفہ دینا چاہئے تاکہ یہ سو جائے اور میرے حملہ سے غافل ہو جائے۔