خطبات محمود (جلد 22) — Page 599
خطبات محمود 599 * 1941 تبلیغ کے لئے ہمیشہ روپیہ خرچ کرتی رہتی ہے مگر مسلمان بادشاہ یہی کہتے رہے کہ ہم بادشاہ ہیں، ہمارا مذہب کی تبلیغ سے کیا تعلق۔اس کے مقابلہ میں خد اتعالیٰ نے ہماری چھوٹی سی جماعت کو تبلیغ کی ایسی توفیق بخشی ہے کہ سوائے پیغامی گروہ کے، اور سب اس بات کے معترف ہیں کہ ہماری جماعت سے بڑھ کر اور کوئی تبلیغ نہیں کر رہا۔ایک پیغامی گروہ ہی ہے جو کہتا ہے کہ جماعت احمدیہ کا قادیانی حصہ تبلیغ اسلام نہیں کرتا۔مگر ان کے اس اعتراض کی اگر تشریح کی جائے تو یہ ہو گی کہ انگلستان میں قادیانیوں کا مشن ہے، ہمارا کوئی مشن نہیں۔مگر انگلستان میں تبلیغ قادیانی نہیں کرتے بلکہ ہم کرتے ہیں۔امریکہ میں ہمارا کوئی مشن نہیں صرف قادیانیوں کا مشن ہے۔اور ہیں بچیں ان کے مقامی مبلغ بھی ہیں مگر امریکہ میں تبلیغ ہم کرتے ہیں قادیانی نہیں کرتے۔پھر ان کے اس اعتراض کی تشریح یہ ہو گی کہ گولڈ کوسٹ میں قادیانیوں نے مبلغ رکھا ہوا ہے ہمارا کوئی مبلغ نہیں مگر وہاں بھی تبلیغ ہم کرتے ہیں قادیانی نہیں کرتے۔نائیجیریا میں قادیانی کوئی تبلیغ نہیں کرتے کیونکہ انہوں نے وہاں مبلغ بھجوایا ہوا ہے۔صرف ہم کرتے ہیں۔گو ہمارا وہاں کوئی مبلغ نہیں۔اسی طرح الیون میں قادیانی مبلغ موجود ہے اور ہمارا کوئی مبلغ نہیں مگر سیر الیون میں تبلیغ ہم ہی کر رہے ہیں قادیانی نہیں کر رہے۔غرض اسی طرح پھیلاتے چلے جاؤ اور دیکھو کہ مصر میں ، فلسطین میں، شام میں، سماٹرا میں، جاوا میں، ملایا میں۔غرض جہاں جہاں ہمارے مشن قائم ہیں۔وہاں ان کے اس اعتراض کی یہی تشریح ہو گی کہ قادیانی بالکل تبلیغ نہیں کرتے۔جس کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے اپنے مشنری ان میں بھیجے ہوئے ہیں۔مگر پیغامی تبلیغ کرتے ہیں کیونکہ ان کا ان ملکوں میں کوئی مبلغ نہیں اور سچی بات تو یہ ہے کہ پیغامیوں کا بیرونی ممالک میں کہیں مشن ہے ہی نہیں ایک مشن جرمنی میں تھا مگر وہ بند ہو چکا ہے۔پھر انہوں نے سیر الیون میں اپنا مشنری بھیجا مگر وہ ہمارے وہ ہمارے مشنری کے مقابلہ کی تاب نہ لا کر وہاں سے بھاگ آیا۔یہاں تک کہ اسے کرایہ بھی ہمارے مشنری نے ہی لوگوں سے چندہ کر کے دیا۔ملکوں